گڑھ مہاراجہ
ضلع جھنگ، تحصیل احمد پور سیال کا ایک قصبہ، یہ دریائے چناب کے مغربی کنارے پر جھنگ سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ احمد پور سیال سے اس کا فاصلہ 20 کلومیٹر ہے۔ لیہ، ملتان اور مظفرگڑھ کو یہیں سے سڑکیں جاتی ہیں۔ یہ تاریخی حیثیت کا حامل قصبہ ہے۔ جب شہاب الدین غوری نے ملتان پر حملہ کیا اور اس غرض کے لیے وہ شور کوٹ پہنچا تو اس نے پہلی فوجی چھاؤنی گڑھ مہاراجہ کے میدان میں ڈالی تھی۔ ملتان کی فتح کے بعد اپنی اس فوجی چھاؤنی کو باقاعدہ شہر میں بدلا اور اس کا نام “شاہ نگر” رکھا۔ بعد میں یہ شہر مختلف جنگوں کی زد میں آ کر تباہ و برباد ہو گیا۔ یہاں سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر حضرت سلطان باہُو کا مزار ہے۔ مغلوں کے عہد میں یہ قلعہ قہرگان کا علاقہ کہلاتا تھا۔ مغل بادشاہ شاہجہان نے حضرت سلطان باہُو کے والد محترم سلطان بازید کو ان کی فوجی اور تبلیغی خدمات کے صلہ میں قلعہ قہرگان کے قریب دریائے چناب کے کنارے جاگیر عطا کی تھی۔ یہ علاقہ اس وقت ملتان صوبے کے ماتحت اور اورنگ زیب کی جاگیر میں تھا۔ 1638ء میں اورنگ زیب نے قہرگان (گڑھ مہاراجہ) میں دریائے چناب کے کنارے مضبوط قلعہ تعمیر کرایا۔ کیونکہ اس زمانہ میں بلوچوں نے ہلچل اور شورش پیدا کر رکھی تھی۔ وہ خود بھی دو مرتبہ قیام پذیر ہوا اور حضرت سلطان باہُو کی مجلس عرفان سے فیض یاب ہوا۔ بعد میں یہ قلعہ شکستہ ہو گیا تو نواب ولی داد خان کے عہد میں کوڑا رام نے اس کی دوبارہ مرمت کرائی اور شہر بسایا اور اس کا نام راج گڑھ رکھا۔ بعد ازاں یہ علاقہ رجب سیال کی جاگیر میں مل گیا اور یہ علاقہ گڑھ مہر رجب کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اس نے احمد پور کے علاقے پر قبضہ کر کے اسے ملتان کے نواب کے ماتحت کر دیا تھا۔ رجب خان نے تُوانہ سردار خان بیگ خان کو اس کے بھائی کے حملہ کے خلاف حملہ میں مدد دی تھی۔ علاوہ ازیں اس نے صاحب خان کے حملہ کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔ 1811ء میں اسے نواب ملتان سے شکست اٹھانی پڑی۔ اسی رجب خان کے اکسانے پر راجہ رنجیت سنگھ نے جھنگ کے سیال حکمران احمد خان پر حملہ کیا اور اسے گرفتار کر کے لاہور لے گیا۔ رجب خان نے آخری عمر گڑھ مہاراجہ میں گزاری اور وہیں فوت ہوا۔ جب سکھوں نے اس علاقے پر قبضہ کیا تو اس کا نام گڑھ مہاراجہ رکھ دیا گیا۔ یہی نام اس وقت مشہور ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس قلعہ میں دربار لگایا تھا۔ مالیہ کی وصولی کے لیے علاقے میں سکھ کاردار مقرر کیے گئے۔ رجب کے بیٹے خان بیگ خان نے سکھوں کے خلاف ملتان کی مہم کے دوران انگریزوں کی بڑی مدد کی تھی۔ سکھوں کے عہد میں یہاں شدید سیلاب آیا جس سے عمارتیں منہدم ہو گئیں ۔ چنانچہ دیوان مولراج کے عہد نظام میں نوازش علی خان کے دادا نے 1833ء میں موجودہ قصبہ کی بنیاد ڈالی اور یہ علاقہ پھر آباد ہوتا چلا گیا۔ سکھوں کے بعد انگریزی دور میں بھی قصبہ آبادی کے لحاظ سے ترقی کرتا رہا۔ 1848ء میں پنجاب پر انگریزوں کے قبضے کے بعد گڑھ مہاراجہ کا علاقہ ضلع مظفرگڑھ میں شامل کیا گیا۔ 1861ء میں نئے بندوبست کے تحت اسے ضلع جھنگ کی تحصیل شور کوٹ میں شامل کر دیا گیا۔ 1919ء کی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق اس وقت یہاں تھانہ اور ڈاکخانہ موجود تھے 1936-37ء میں موجودہ قصبہ کے شمال مشرق میں نوازش علی خان نے اپنے نام پر نیا قصبہ نوازش نگر کے نام پر بسایا۔ اب اس قصبہ کو سب تحصیل کا درجہ حاصل ہے اور یہاں طلبا و طالبات کے ہائی سکول، ہسپتال، دفتر یونین کونسل، تجارتی بازار، کپاس بیلنے اور برف تیار کرنے کے کارخانے ہیں۔ یہاں آج بھی رنجیت سنگھ کے دور کے قلعے کے آثار ملتے ہیں۔ اس کے مشرق میں دریائے چناب کو عبور کرنے کے بعد حضرت سلطان باہُو کے والدین کے مزارات ہیں۔ تحریک پاکستان کے دنوں میں قائد اعظم محمد علی جناح اس بستی میں تشریف لائے تھے۔ کپاس اور گندم علاقے کی اہم زرعی پیداوار ہیں۔ واجد علی واجد یہاں کے معروف شاعر ہیں۔ ان کا مجموعہ ساغر شائع ہوا۔ معروف پنجابی گلوکار منصور ملنگی کا تعلق بھی اسی قصبے سے ہے۔ گڑھ مہاراجہ کی آبادی 1981ء میں 16233 اور 1998ء میں 25092 نفوس پر مشتمل تھی۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 46209 نفوس پر مشتمل ہے۔