پیر عبدالرحمن ضلع جھنگ کی تحصیل احمد پور سیال کا ایک تاریخی قصبہ، گڑھ مہاراجہ اور احمد پور سیال کی سڑک پر غربی جانب آباد ہے۔ تاریخی اعتبار سے ضلع جھنگ میں اسلام کی تبلیغ پہنچنے کے ابتدائی دور میں اس قصبہ کی بنیاد رکھی گئی۔ ایک روایت کے مطابق پیر عبدالرحمن معاویہ بن یزید کے عہد میں براستہ سندھ ملتان پہنچے اور پھر محمد بن قاسم کے حملوں کے دوران آپ یہیں رہے۔ آپ نے ہی اس جگہ کو موزوں سمجھ کر جھونپڑی ڈال لی۔ بعد میں رفتہ رفتہ شہر آباد ہوتا چلا گیا۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے بھی اہم تھا۔ کیونکہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے درمیان آمد و رفت اس راستہ سے ہوتی تھی۔ قدیم عہد میں یہاں تباہ شدہ قلعوں اور شہروں کے آثار اب تک موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ علاقہ عہد قدیم میں بھی آباد تھا۔ تاہم موجودہ قصبہ تیرہ سو سال قبل وجود میں آیا۔مزار حضرت عبدالرحمن سے ایک فرلانگ مشرق اور دریائے چناب کے مغربی کنارے سے پونے دو کلومیٹر کے فاصلے پر خوفناک آثار قدیمہ موجود ہیں۔ ان میں بڑے بڑے غار اتنے گہرے ہیں کہ ان کی انتہا تک نظریں نہیں پہنچ پاتیں۔ یہاں سے تانبے کے سکے دستیاب ہوئے جن پر ہاتھی اور شیر کے ایک طرف نشان ہیں۔ دوسری طرف سنسکرت میں کچھ حروف ہیں۔ کھنڈرات کے ایک حصہ میں ایکایسی دیوار دستیاب ہوئی ہے جس کی چوڑائی پونے تین میٹر سے بھی زیادہ ہے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ مزار پیر عبدالرحمن کی قدیم مسجد جسے گرا کر دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے اس کی پرانی عمارت میں بھی یہی اینٹیں چنی ہوئی تھیں۔ اندازہ ہے کہ یہاں ایک قدیم شہر اور قلعہ تھا۔ مگر تاریخ اس کے بارے میں کچھ بتانے سے قاصر ہے۔ البتہ اس قصبہ کے قریشی خاندان اور پیر عبدالرحمن کے معتقدین پر راجہ سیل حکمران تھا۔ اس نے قلعہ کی تعمیر شروع کرائی مگر جنوبی قلعہ کی دیوار چنی جاتی وہ گر پڑتی۔ اس نے اپنے درباری کاہنوں سے پوچھا۔ کاہنوں نے بتایا کہ جب تک قلعہ کی دیوار میں تازہ بیوہ کے شیر خوار بچہ کو زندہ دفن نہیں کیا جائے گا اس وقت تک قلعہ نہیں بن سکتا۔ چنانچہ راجہ کے حکم سے ایسی بیوہ تلاش کی گئی اور اس کا بچہ چھین کر قلعہ کی بنیاد میں دفن کیا اور قلعہ تعمیر ہوا۔ عورت نے حجاز جانے والے ایک قافلہ کے عرب مسلمانوں سے امداد کی درخواست کی۔ اس قافلہ کے امیر نے حضرت عمر فاروق کو تمام ماجرا سنایا۔ حضرت عمر نے اسی وقت حضرت عبدالرحمن بن عوف کو حکم دیا کہ اس عورت کی فریاد کا مداوا کیا جائے۔ چنانچہ عبدالرحمن وارد ہند ہوئے۔ راجہ سیل کی سلطنت میں آ کر راجہ کو اسلام کی دعوت دی مگر راجہ لڑائی پر آمادہ ہو گیا۔ جس پر حضرت عبدالرحمن نے قلعہ کی دیوار پر زور کا ہاتھ مارا جس سے قلعہ تباہ ہو گیا اور اس کی بنیاد میں دفن شدہ بیوہ عورت کا بچہ زندہ برآمد کر کے اس کے حوالے کر دیا۔ بعد میں آپ اسی قلعہ سے ملحق ایک جھیل میں قیام پذیر ہوئے۔ راجہ نے اس واقعہ کے بعد اسلام قبول کر لیا۔ تاریخی لحاظ سے اس مقامی روایت کی کوئی سند نہیں ہے اور یہ بعض تاریخی تضادات کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہے۔ البتہ اتنی بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ خلافت راشدہ کے آخری دور میں رسول اللہ کے کوئی صحابی عبدالرحمن نامی اُدھر آئے ہوں اور وہ اسی علاقہ میں رہ گئے ہوں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کے ساتھ اس واقعہ کو منسلک کرنا تاریخی اعتبار سے بالکل غلط ہے۔یہاں طلبا و طالبات کے ہائی سکول، ہسپتال، شفاخانہ حیوانات اور حبیب بینک کی شاخ موجود ہیں۔ یہاں طالبات کا سکول پرائمری سطح پر 1939ء میں قائم ہوا تھا۔ 1974ء میں اسے مڈل اور 1983ء میں ہائی کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ یہاں ایک مین بازار اور محلہ موچیاں والا، محلہ قریشیاں، جھین٘ڈاں والا اور محلہ کہنے والا رہائشی بستیاں ہیں۔ دستکاری میں یہاں کھیس اور چادریں تیار ہوتی ہیں جبکہ کھانے پینے کی اشیاء میں سلطان کمہار کا کھویا بہت مشہور ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 16474 نفوس پر مشتمل ہے