جھنگ

نـگـر نـگـر پنجـاب

پنجاب کا شہر اور ضلع ، شورکوٹ سرگودھا ریلوے لائن پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں ضلع سرگودھا، شمال مشرق میں ضلع حافظ آباد، مشرق میں فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، جنوب میں خانیوال اور مظفر گڑھ، جبکہ جنوب مغرب کی طرف لیہ اور بھکر کے اضلاع واقع ہیں۔ دریائے چناب اس کے قریب بہتا ہے۔ جبکہ اس ضلع کی حدود میں تریموں کے مقام پر جہلم اور چناب آپس میں ملتے ہیں۔ دریاؤں کے قرب اور زرخیز مٹی کی وجہ سے ماضی میں کبھی یہ علاقہ وسیع اور گھنے جنگلوں سے بھرا ہوا تھا۔ جغرافیائی خصوصیت کے باعث اس جگہ کو جھنگی، جہانگ، جھنگڑ جیسے ناموں سے پکارا جاتا رہا۔ عہدِ قدیم میں جب اس پورے علاقے کو جھنگی پکارا جاتا تھا، اس جگہ برہمن گڑھ کا تاریخی شہر تھا، موجودہ جھنگ صدر سے کوئی 3 کلو میٹر مشرق کی جانب قدیم شہر اور قلعہ کے آثار ملتے ہیں جو صرف زمین کے ابھار یا مٹی کے ٹیلوں کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ مائی ہیر کا مزار بھی پر واقع ہے۔ یہ جگہ اب بھی بلند ٹیلہ کی صورت میں ہے اور ہیر کا مزار بھی اسی ٹیلے کے اوپر واقع ہے۔ ارد گرد قبرستان ہے۔ سکندر کے حملہ پنجاب کے بارے میں مورخین نے جو کچھ لکھا ہے اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ قلعہ کے مشرق میں دریائے چناب بہتا تھا۔ چنانچہ آج بھی چناب کی قدیم گزرگاہ کے نشانات مزار ہیر کے مشرق میں موجود ہیں۔ ماہرینِ آثار قدیمہ نے یہاں کھدائی کی اور یہ نتیجہ نکالا کہ یہاں سکندرِ اعظم اور چندر گپت موریہ کے عہد کی آبادی تھی۔سکندرِ اعظم کے زمانہ میں یہاں بشی نام کی ریاست قائم تھی۔ یہ علاقہ اب ضلع جھنگ پر مشتمل ہے۔ زمانہ قدیم سے جھنگ کا خطہ محل وقوع اور جغرافیائی طور پر اہمیت کا حامل رہا ہے۔ پانچ دریاؤں کے دیس میں جھنگ قلب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ڈانڈے ایک طرف درہ بولان کے راستہ ایران سے ملتے ہیں۔ دوسری طرف خیبر کے راستہ افغانستان سے اور جھنگ واحد آبی گزرگاہ تھی جو سندھ اور کشمیر کے درمیان رابطہ کا کام دیتی تھی۔ سندھ اور بلوچستان کی طرف سے آنے والے حملہ آوروں کو عموماً تریمو گھاٹ پر ہی پڑاؤ ڈالنا پڑتا تھا۔ کیوں کہ یہاں سے ملتان جانے کے لیے دریائے چناب میں کشتیاں ڈالتے تھے اور کشمیر جانے کے لیے دریائے جہلم میں سفر کرتے تھے۔ گویا شمالاً جنوباً یہی آبی گزرگاہ فوجوں کا مرکز بنتی تھی۔ جب سکندرِ اعظم نے پنجاب پر حملہ کیا تھا تو اس کی فوجیں بھی چنیوٹ سے ہوتے ہوئے دریائے چناب عبور کر کے تریموں گھاٹ پہنچی تھیں 3۔ سانگلہ اور ساندل بار کے علاقہ میں پیدل فوج بھی پیش قدمی کرتے ہوئے جھنگ کے قریب خیمہ زن ہوئی تھی۔ تین اطراف سے فوجوں کا حملہ اس اعتبار سے کامیاب رہا کہ آس پاس کی تمام چھوٹی چھوٹی ریاستیں مفتوح ہوئیں۔ برہمن گڑھ کا قلعہ بھی بلا مقابلہ یونانی فوجوں کے قبضہ میں آ گیا۔ یہاں کے لوگوں نے سکندرِ اعظم کی رضا کارانہ اطاعت کی۔ سکندر کے زمانے کے چند سو سال بعد یہ علاقہ دوبارہ ترقی پذیر ہوا تو علاقے کا دارالحکومت “شوی پورہ” نام ایک شہر میں قائم ہوا۔ اس جگہ اب شورکوٹ شہر ہے۔ بشی کے قریب کا ایک قبیلہ جسے یونانیوں نے اگلی موئی لکھا ہے۔ سکندر پر حملہ آور ہوا۔ یہ آگری لوگ تھے۔ یونانیوں نے بری طرح ان کا قتلِ عام کیا۔ شہر کے تمام باشندوں نے مشترکہ خودکشی کرلی۔ اشوک کے عہد میں یہ علاقہ بدھ مت سرگرمیوں کی آماجگاہ بنا رہا۔ مشہور چینی سیاح ہیوان سانگ 641ء میں ہندوستان کے مختلف علاقوں کی سیاحت کرتے ہوئے اس سال کے موسمِ گرما میں جھنگ آیا۔ وہ یہاں سے بھکر جانا چاہتا تھا۔ لیکن تریموں کے مقام پر زبردست طغیانی کی وجہ سے ایسا نہ کر سکا۔ اس نے اپنے سفرنامے میں اس مقام کا نام جہانگ لکھا ہے۔ ​اس شہر کی زندگی میں پہلا اہم موڑ اس وقت آیا جب ساہی رائے کی موت کے بعد اس کا بیٹا ہرلیش تخت نشین ہوا۔ ہرلیش نے برہمن گڑھ کو پہلی بار صوبہ کا درجہ دیا۔ علاقہ جات پنڈی بھٹیاں، لکھواڑہ، چنیوٹ، شورکوٹ، لیہ، اعوانی اور دیپالپور اس صوبے میں شامل کر دیئے گئے۔ اسلامی عہد کے آغاز میں موسیٰ بن کعب، تمیمی، عینیا اور عمر بن حفص کے بعد دیگرے خلافتِ عباسیہ کے عہد میں جھنگ کے گورنر مقرر ہوئے۔ جب التمش شورکوٹ سے لے کر بھیرا تک اور علاقہ کوہستان کا حکمران بنا تو اس نے نول قوم کے ایک سردار نوڈھرو کو جھنگ کا نظم و نسق سنبھالنے کے اختیارات تفویض کیے۔​تاریخ میں پہلی مرتبہ یہاں باقاعدہ طور پر حضرت شیر شاہ جلالی سرخ بخاری اُچی نے 1292ء میں شہر کی بنیاد رکھی۔ چونکہ موصوف سیال قبیلہ کے پیشوا اور مرشد تھے۔ انہوں نے اسے جھنگی سیالاں کے نام سے منسوب کیا۔ درختوں کے گھنے جھنڈ کے باعث اس علاقے کو مقامی زبان میں جھنگی کہتے ہیں۔ 1462ء میں جبکہ اس شہر پر نول قبیلہ حکمران تھا جو نواب بہلول لودھی حاکمِ دیپالپور و لاہور کو بروقت سرکاری واجبات ادا نہ کر سکا۔ اس بنا پر بہلول لودھی نے ہیر کے چچازاد بھائی مل کو جو کہ چوچک کے بعد اپنے خاندان کا سربراہ بنا تھا۔ جھنگ پر قبضہ کر لینے کی اجازت دے دی۔ مل خان نے نول قبیلہ کو شکست دے کر جھنگ پر قبضہ کر لیا۔ اس جنگ میں شہر کو نقصان پہنچا۔ مل خان نے دوسری مرتبہ اسے بسایا اور پھر اپنی حکومت کا مرکز بنا لیا۔ یہی شہر سیالوں کا پائے تخت رہا۔ انہوں نے شہر کے ارد گرد بہت سے مضبوط قلعے بنوائے جن میں سے خفیہ سرنگیں دریائے چناب کے کنارے کھلتی تھیں۔ تیسری مرتبہ سیلاب کی وجہ سے شہر کو نقصان پہنچا۔ اس بار اسے ایک بزرگ بابا نور شاہ مداری نے بعد اکبر تعمیر کرایا۔ چوتھی مرتبہ سیلاب نے تباہ کر دیا تو ہندوؤں کے مشہور بادل لال ناتھ نے سیالوں کے تعاون سے 1628ء میں تعمیر کرایا۔ اس وقت کا مندر آج بھی موجود ہے۔ ​شیر شاہ سوری کے عہد میں جھنگ صدر میں جہاں آج کل ریل بازار اور کٹھورہ موجود ہے بہت بڑا اصطبل، ایک سرائے دو قلعے اور کھیوہ کے پاس ایک قلعہ تعمیر کرائے گئے۔ جھنگ سے چنیوٹ تک دریا کے مشرقی کنارے پختہ سڑک تعمیر ہوئی۔ علاقے میں کئی سڑکیں بھی تعمیر کرائی گئیں۔ عہدِ اکبری میں جھنگ صوبہ ملتان سے منسلک کر دیا گیا۔ جہانگیر کے زمانے میں اس شہر کے قریب پرانے قلعہ کے کھنڈروں پر میگھانا نامی سیال نے ایک بستی آباد کی جو دراصل ایک چھپڑاہا تھا۔ حاکم جھنگ نواب غازی خان سے اس نے گزارے کے لیے یہ جاگیر حاصل کی تھی۔ یہ بستی مگھیانہ مشہور ہوئی۔ جھنگ کے مقامی حکمرانوں میں مل خان کے بعد دولت خان، غازی خان، جلال خان، رشید خان، فرید خان، کبیر خان، جہان خان، غازی خان ثانی، سلطان محمود، مغل خان، محرم خان، ولی داد خان، کھیوہ خان، شاہ میر خان، عنایت اللہ خان، سلطانی محمود خان ثانی، صاحب خان اور احمد خان کے بعد دیگر قوم سیال کے شامل تھے۔ اس عرصہ میں یہ مقامی حکمران کبھی خودمختار اور کبھی لاہور اور صوبہ ملتان کی حکومتوں کے ماتحت رہے۔ سیالوں نے حضرت خواجہ فرید گنج شکر کے ہاتھوں اسلام قبول کیا تھا۔ ​مشہور سیاح ابن بطوطہ جب 1334ء میں ملتان جاتے ہوئے، بھیرا، جھنگ سے گزرا تو اس زمانے میں یہاں کا حکمران مبارک خان نول تھا۔ ابن بطوطہ یہاں ٹھہرا۔ حاکم نے اسے رخصت کرتے وقت دوشالہ اور ایک گھوڑا عطا کیے۔ اس زمانے میں یہاں زبردست قحط پڑا ہوا تھا اور ہر چیز مہنگی تھی۔ تغلق دور میں جھنگ ملتان کی حکومت کے ماتحت تھا اور یہاں کشلو خان عرف خسرو خان گورنر تھا۔ اس کو حکمِ عدولی کے نتیجے میں قتل کروا دیا گیا تو اس کا سر چنیوٹ، جھنگ اور شورکوٹ شہروں میں پھرایا گیا۔ مغل بادشاہ بہادر کے عہد میں جھنگ کا حکمران مل خان کا بیٹا غازی خان تھا۔ اس کی حکمرانی کی حدود مغرب میں تھل اور جہلم کا کنارہ، شمال میں کوٹ چندان، مشرق میں ساندل بار اور ڈولی شہید تک تھی جبکہ قلعہ چوہترہ، قلعہ کوٹ لکھنانہ، قلعہ برہمن گڑھ (جھنگ میں) قلعہ مہنت (جھنگ شہر) قلعہ آج، گل امام، قلعہ سیال (نزد ساندل بار) بھی اس کے قبضے میں تھے جبکہ چنیوٹ کے علاقے پر اس زمانے میں منگورائے جاٹ حکمران تھا۔ بادشاہ شاہجہان کے دور میں بھی جھنگ کے علاقے ملتان صوبہ کی حکومت میں شامل تھے۔ شہزادہ مراد اس دور میں ملتان کا حاکم رہا پھر اورنگزیب کو بطور جاگیر یہ صوبہ ملا۔ ملتان کی نظامت جب داراشکوہ کے سپرد ہوئی تو وہ اس دوران جھنگ بھی آیا۔ یہاں سیال حکمران اس کا مہماندار ہوا۔ واقعہ مشہور ہے کہ انہی دنوں عیدِ قربان آ گئی۔ دارا کا قیام دریا کے کنارے تھا جہاں درختوں کی قطاریں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس وقت شہر میں کوئی بڑی عید گاہ نہ تھی۔ دارا نے اپنی سپاہ اور امراء کے ہمراہ شہر کے جنوب میں واقع ایک میدان میں نمازِ عید ادا کی اور اس جگہ پر عید گاہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ پرانی عید گاہ کی چار دیواری اور محراب اس کے حکم سے تعمیر ہوئے۔ بعد میں اہل محلہ نے اسے مسجد کے طور پر دوبارہ تعمیر کیا۔ دارا نماز سے واپسی پر جلوس کی شکل میں سرکاری اصطبل واقع کٹھڑہ ہیر والا پہنچا جہاں عید کی خوشی میں اس نے گھڑ دوڑ، نیزہ بازی اور ہاتھیوں کا مقابلہ کرایا۔ اہل شہر کو دعوت طعام دی چنانچہ اس دن سے مستقل رواج ہو گیا کہ عید الفطر ہو یا عید قربان مسلمان عید پڑھنے کے بعد جلوس کی صورت میں بلاق شاہ روڈ، محلہ پنڈی، دروازہ لیلیٰ مجنوں، بازار لوہاراں، ریل بازار سے گزر کر کٹھڑہ میں پہنچتے جشنِ عید مناتے۔ یہ سلسلہ 1948ء تک رہا۔محمد شاہ رنگیلا کے عہد میں شاہجہان کے وزیرِ اعظم نواب سعد اللہ خان کے پوتے محی الدین خان کو بھیرا، جھنگ، چنیوٹ، خوشاب ، کوہستان اور شورکوٹ کے علاقوں کا نگران گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ طوائف الملوکی کے دور میں جھنگ کے سیال حکمران کافی حد تک خود مختار بن گئے تھے۔ اس زمانے میں افغانستان کا امیر جہان خان بارک زئی باقاعدہ فوج لے کر کابل سے براستہ تریموں جھنگ پہنچا۔ جہاں عنایت اللہ خان نے اس کا شایانِ شان استقبال کیا اور اپنے محل میں ٹھہرایا۔ جہان خان کو خدا جانے کیا سوجھی یا کسی نے شرارت کے طور پر اس کے کان میں یہ بات پھونکی کہ عنایت اللہ خان کی سات بہنیں ہیں ان میں صرف ایک شادی شدہ ہے یعنی شہادت خان سے بیاہی ہوئی ہے اور باقی کنواریاں موجود ہیں۔ جہان خان نے اپنے لیے عنایت اللہ خان سے بہن کا رشتہ طلب کیا اور کہا کہ اس طرح ہمارے اور تمہارے درمیان مراسم پختہ ہو جائیں گے۔ عنایت اللہ خان کو یہ بات ناگوار گزری۔ وہ سن کر خاموش ہو گیا اور اپنے دیوان بھوانی داس کو حکم دیا کہ میری چھ بہنوں کے نکاحوں کا آج ہی انتظام کر دیا جائے۔ چنانچہ ایک رات میں تمام بیاہ دی گئیں۔ عنایت اللہ خان نے امیر کابل سے کہا کہ آپ کو کسی نے غلط بتایا میری بہنوں کے رشتے طے ہو چکے تھے وہ سب بیاہ دی گئی ہیں۔ جھنگ کے سیال حکمرانوں میں ولی داد خان نے جھنگ کے علاوہ کمالیہ اور رجوعہ کو بھی اپنی حکمرانی میں شامل کر لیا تھا۔ ولی داد کی قریبی علاقے ساہیوال (ضلع سرگودھا) کے بلوچ قبیلے کے ساتھ بھی لڑائیاں رہیں اور وہ اس کو خراج دیتے رہے۔ ولی داد خان نے چھوٹی موٹی جنگوں میں کامیابی کے بعد امن قائم کرنے کی خاطر مختلف علاقوں کے رؤساء کا اجلاس بلا کر ایک باہمی معاہدہ طے کر لیا جس کے تحت پورے ضلع مظفر گڑھ، حیدر آباد، ضلع میانوالی (ضلع بھکر)، ساہیوال، ضلع سرگودھا، پنڈی بھٹیاں، ملکہ ہانس، کمالیہ،شورکوٹ کا علاقہ بلا شرکت غیرے نواب ولی داد خان کی عملداری میں مستقل طور پر شامل ہو گیا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد تک جھنگ کی ریاست اسی طرح قائم رہی۔ سیالوں میں ولی داد جیسا قابل اور کوئی حکمران پیدا نہیں ہوا۔ 1803ء میں جب راجہ رنجیت سنگھ نے جھنگ پر حملہ کیا تو اس وقت احمد خان سیال یہاں کا حکمران تھا جس نے اب تک اپنی ریاست کو کسی نہ کسی طرح سے سکھوں سے بچایا ہوا تھا۔ مگر وہ اس حملے میں جوانمردی سے مقابلہ کرنے کے بعد بالآخر ملتان کی طرف بھاگ گیا۔ رنجیت سنگھ نے فتح سنگھ کو یہاں کا حاکم مقرر کیا۔ کچھ عرصے بعد احمد خان سیال ملتان کے پٹھان حکمران کی مدد سے جھنگ پر قبضہ دوبارہ لینے میں کامیاب ہو گیا۔ اس پر رنجیت سنگھ نے پھر اس کے خلاف کارروائی کی۔ اس مرتبہ احمد خان سیال نے اطاعت قبول کرتے ہوئے 70 ہزار روپے سالانہ خراج دینا منظور کر لیا۔ 1810ء میں رنجیت سنگھ نے جھنگ پر مکمل قبضہ کرنے کی غرض سے ایک مرتبہ پھر کارروائی کی۔ نواب احمد خان سیال کو گرفتار کر کے لاہور لے آیا گیا۔ جہاں وہ دو سال تک راجہ کی قید میں رہا۔ بعد ازاں ضلع امرتسر کے علاقہ میرووال میں 1200 روپے جاگیر دے کر وہاں بھیج دیا گیا۔ 1820ء میں اس کا انتقال ہوا اور جھنگ میں دفن کیا گیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا عنایت اللہ خان اس کی جاگیر کا وارث بنا جس کا انتقال 1838ء میں ہو گیا۔ سکھ دورِ حکومت میں ضلع جھنگ کے علاقوں میں جو کاردار مقرر کیے گئے تھے ان میں سبحان رائے، سکھ دیال، جولا سنگھ، صاحب دتہ، شام سنگھ، جوالا داس، جساسنگھ، دولت رام، باقر، جلا بھردانہ، عبدالرحمن، افضل خان، جواہر سنگھ، جیوند سنگھ، مہاراج عطر سنگھ، بولا ناتھ، دل سنگھ، رام کور، دیوان ساون مل، دیوان طراج اور رلیا رام کے نام شامل ہیں۔ سکھ دورِ حکومت میں جھنگ میں کافی تعمیراتی کام ہوئے۔ چناب کی ذیلی شاخوں پر پل تعمیر ہوئے جن میں حَکی پھاٹ کا پل، جھنگ مگھیانہ روڈ کا پل، دنیا دالا پل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہیر والا اصطبل، ضلع کچہری جھنگ صدر کے احاطے میں چھوٹا قلعہ جہاں اس وقت سرکاری خزانہ ہے بھی تعمیر ہوئے۔ جھنگ شہر کے گرد فصیل بنوائی گئی جس کی دیوار ایک گز چوڑی اور پونے دو گز اونچی تھی۔ شہر کے چاروں طرف دروازے تعمیر کرائے گئے۔ ان میں سے تین بابِ عمر (کھیوہ گیٹ) ممنا گیٹ، نور شاہ گیٹ اب بھی موجود ہیں اس طرح جھنگ صدر میں چار پختہ دروازے بنوائے گئے۔ ان میں پہلا گیٹ بازار کھٹانہ والا، دوسرا ریل بازار، تیسرا سبزی منڈی جھنگ بازار میں تھا اور چوتھا محلہ پنڈی میں اب بھی موجود دروازہ لیلیٰ مجنوں کے نام سے مشہور ہے۔ حالیہ سالوں میں اس کا نام ختمِ نبوت گیٹ رکھا گیا ہے۔ یہ شہر پہلے ان چار دروازوں میں بند تھا۔ اب ان دروازوں کے آثار موجود ہیں۔ صدر ایوب کے دور میں مگھیانہ کو جھنگ صدر کہا جانے لگا جو ضلع جھنگ کا صدر مقام ہے۔ یہاں تمام سرکاری دفاتر واقع ہیں۔ سکھ عہد میں جھنگ میں پارچہ بافی عام تھی۔ اس زمانے میں جھنگ میں 8132 دستی کھڈیاں موجود تھیں جو سوتی کپڑا خاص طور پر کھدر تیار کرتی تھیں۔ سلکی اور سُوئی لنگیاں اور اونی چادریں یہاں کی مشہور تھیں اور اس کی تجارت کشمیر سے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی۔ دیوان طراج کے عہد میں صرف ایک سال میں مگھیانہ (جھنگ صدر) سے گیارہ لاکھ روپے مالیت کا کپڑا دوسرے علاقوں میں فروخت ہوا۔ اس کے علاوہ ضلع جھنگ میں اس دور میں کاغذ بنانے، تانبہ، ایلومینیم، کانسی کے برتن بنانے، لکڑی کی مصنوعات تیار کرنے، مٹی اور لکڑی کے برتن تیار کرنے، تیل نکالنے اور چمڑا صاف کرنے اور رنگنے کے ادارے اور فیکٹریاں بھی تھیں۔ تجارتی مال زیادہ تر کشتیوں کے ذریعے منزلِ مقصود تک پہنچایا جاتا تھا۔ عام طور پر دریائی ٹریفک کشمیر سے مٹھن کوٹ، وزیر آباد سے جھنگ، رام نگر سے جھنگ، پنڈی بھٹیاں سے جھنگ، وزیر آباد سے ملتان، مٹھن کوٹ سے رام نگر، جہلم سے ملتان، جہلم سے سکھر، جہلم سے کوٹری کے لیے سارا سال جاری رہتا تھا۔ 1849ء میں ضلع جھنگ براہِ راست برطانوی حکومت کے تحت آ گیا۔ پہلا ڈپٹی کمشنر جی ڈبلیو ہملٹن تھا۔ ابتدا میں یہ ضلع چنیوٹ، جھنگ، قادر پور اور اوچ کی تحصیلوں پر مشتمل تھا۔ 1854ء میں تعلقہ فرودک کو ضلع شاہ پور جبکہ 1861ء میں گڑھ مہاراجہ اور احمد پور کے علاقوں کو ضلع مظفر گڑھ سے ضلع جھنگ اور علاقہ کالووال کو اسی سال ضلع شاہ پور سے ضلع جھنگ میں شامل کیا گیا۔ 1861ء میں قادر پور اور اوچ کی تحصیلیں ختم کر دی گئیں اور نئے بندوبست کے بعد ضلع جھنگ میں شورکوٹ، چنیوٹ اور جھنگ کی تحصیلیں شامل ہوئیں۔ 1880ء میں تحصیل شورکوٹ کے سرے سے حد بندی کی گئی۔ لیہ کا علاقہ کاٹ کر ضلع مظفر گڑھ سے ملا دیا گیا۔ 1862ء میں یہاں میونسپلٹی قائم ہوئی۔ 1890ء میں جھنگ کی نئے علاوہ ازیں کمالیہ اور ساہیوال کو ضلع ساہیوال کی شکل دے دی گئی۔ بعد ازاں ساندل بار کا کچھ علاقہ الگ کر کے ضلع لائلپور بنا دیا گیا۔ تاریخِ مخزنِ پنجاب کے مطابق 1878ء میں ضلع جھنگ کی کل آبادی 396033 افراد پر مشتمل تھی۔ اس زمانے میں یہاں کا خربوزہ اور تربوز بہت مشہور تھا۔ 1881ء کی مردم شماری کے مطابق جھنگ ومگھیانہ کی آبادی 21629 افراد پر مشتمل تھی۔ 1931ء میں شہر کی آبادی 50051 نفوس تھی۔ اس وقت یہاں تحصیل آفس، تھانہ، دو ماڈل سکول، ڈاک بنگلہ، ڈسپنسری، میونسپل ہال بمعہ لائبریری اور میوزیم، سرائے، کورٹ ہاؤس موجود تھے۔ جبکہ چرچ، دھرم سالہ، ٹھاکر دوارے، شوالہ اور چند مساجد بھی موجود تھیں۔ شہر میں تاجروں کے قیام کے لیے نو کٹڑے بھی تھے۔ لال ناتھ کا مشہور مندر بھی تھا اسے 1688ء میں اورنگزیب کے عہد میں تعمیر کیا گیا تھا۔جھنگ اس لحاظ سے قابلِ فخر سرزمین ہے کہ یہاں کے فرزندوں نے ہر جدوجہد، ہر جنگ میں بھرپور حصہ لیا اور قربانیاں دی ہیں۔ رومانوی دریا چناب بھی اس کے قریب سے گزرتا ہے۔ کئی مرتبہ یہ سیلاب سے متاثر ہوا۔ اب اس کے راستے میں بند باندھ دیا گیا ہے۔ یہ شہر کا حصار بھی ہے اور اب ایک تفریحی گاہ بھی۔ رومانوی داستان کی ہیر کا مزار بھی ہے جہاں دور دراز سے لوگ منتیں مرادیں مانگنے آتے ہیں۔ جھنگ کے اکثر گھروں سے رات کو ”ہیر وارث“ کے بول سنائی دیتے تھے۔ جھنگ میں مختلف سطح کے کالج اور سکول اور ہسپتال ہیں، طلباء و طالبات کے پوسٹ گریجوایٹ کالجز، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، جھنگ کیمپس، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، کامرس کالج، متعدد پرائیویٹ کالجز اور سکول، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور متعدد دیگر ہسپتال موجود ہیں۔ لال ناتھ اور سناتم دھرم کے مندر بھی ہیں۔ یہاں کی صنعتوں میں دستی قالین، پارچہ بانی، کمبل بانی کے علاوہ لکڑی کی مصنوعات مشہور ہیں۔ فرنیچر کے علاوہ آرائش و زیبائش کا سامان بھی تیار ہوتا ہے۔ رنگین اور منقش پیڑھیاں اور پلنگوں کے پاۓ یہاں کی سوغات ہیں۔ نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبد السلام کا تعلق جھنگ سے ہے جبکہ مجید امجد، سید جعفر طاہر، عبد العزیز خالد، شیر افضل جعفری اور ڈاکٹر محسن مگھیانہ جیسے ادیبوں کا تعلق بھی اسی سرزمین سے ہے۔ جھنگ شہر کے کھوئے یہاں کی تجارت میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ضلع میں زیادہ تر سیال جو سرگانہ، جگھیانہ، مگھیانہ، سربانہ، جنیانہ، بھروانہ، کملانہ وغیرہ ذیلی اقوام میں تقسیم ہیں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے علاوہ انصاری، بلوچ، بھٹی، گلوتر، ہرل، کاٹھیہ، کھوکھر، لالی، نسوانہ، نول، سپرا، تھیم، قریشی، گجر، شیخ، راجپوت، گجر اور اعوان قوموں کے افراد بھی آباد ہیں۔ اب ضلع جھنگ تین تحصیلوں جھنگ، شورکوٹ اور احمد پور سیال پر مشتمل ہے اور نئے بلدیاتی نظام کے تحت یہاں ضلع کونسل قائم کی گئی ہے۔ جھنگ وولن کپڑا، چمڑا سازی اور دیسی جوتا سازی میں مشہور ہے۔ یہاں ایشیاء کی دوسری بڑی شوگر مل شکر گنج شوگر ملز کے نام سے قائم ہے۔ جبکہ جھنگ وولن سنٹر کے نام سے بھی ایک ادارہ موجود ہے۔ جھنگ صدر میں میں بازار، اسلم مارکیٹ، یوسف شاہ روڈ، کھجیاں والا بازار، بازار لوہاراں، جھنگ بازار، کورٹ روڈ، غلہ منڈی اور سبزی منڈی اہم تجارتی مراکز ہیں۔ جبکہ جھنگ سٹی میں ریل بازار مشہور ہے۔ یہاں زرعی ادویات کی بھی بڑی مارکیٹ ہے۔ جھنگ صدر میں محلہ بیرانہ، محلہ پنڈی، محلہ گلاسب شاہ، محلہ دھوپ سڑی، محلہ جسرانہ، محلہ پیلی والا، محلہ پرانی عید گاہ، محلہ باغ والا، محلہ سلطان والا، محلہ آرائیاں، محلہ چنداں والا، سول لائنز ایریا، بستی عطاؤلی، بستی علی آرائیں، علی گارڈن، سیٹلائٹ گارڈن، چناب ٹاؤن اور الکرم سٹی جبکہ جھنگ شہر میں محلہ گلاب والا، محلہ مدن شاہ، محلہ ہاتھی وان، کالونی ریلوے روڈ اور محلہ بابِ عمر گیٹ رہائشی بستیاں ہیں۔ یہاں خواجہ سویٹس کا سوہن حلوہ بہت مشہور ہے۔علم و ادب کے اعتبار سے دیکھا جائے تو جھنگ سے کئی اہم شخصیات وابستہ رہی ہیں۔ ان میں دامودر، پیلو، حافظ عبدالکریم نقشبندی، مجید امجد، شیر افضل جعفری، خواجہ محمد زکریا، محمود شاہ اور علامہ طاہر القادری جیسی شخصیات زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔ ان میں سے دامودر مغل بادشاہ اکبر کے عہد کا ہندی شاعر تھا اور وہ جھنگ شہر کا رہنے والا تھا۔ اس نے قصہ ہیر رانجھا نظم کیا۔ ہیر کے بارے میں یہ قدیم ترین کتاب تصور ہوتی ہے۔ پیلو جہانگیر عہد کا شاعر تھا۔ اس نے سب سے اول مرزا صاحبان کے واقعہ کو نظم کیا۔ یہ کھیوہ کا رہنے والا ہندو تھا۔ حافظ عبدالکریم نقشبندی جن کا انتقال 1157ھ میں ہوا اور جھنگ صدر کے قبرستان میں مدفون ہیں، پنجابی کے شاعر اور عالمِ فاضل بزرگ تھے۔ “نجات المؤمنین” ان کی تصنیف ہے۔ جدید اردو غزل میں فلسفہ اور فن کے امام مانے جانے والے شاعر مجید امجد 1914ء میں جھنگ صدر میں پیدا ہوئے اور 1974ء میں وفات پائی۔ ہفت روزہ “عروج” جھنگ کے ایڈیٹر رہے۔ بعد ازاں ملازمت کی غرض سے ساہیوال میں مقیم رہے۔ “شبِ رفتہ” اور “اے خدا میرے دل” آپ کے دو مجموعے ہائے کلام ہیں۔ پنجابی کے مشہور شاعر شیر افضل جعفری کا تعلق بھی جھنگ سے تھا۔ ان کے والد احمد بخش احمد بھی اپنے عہد کے پنجابی کے شاعر تھے۔ شیر افضل جعفری نے ابتدا میں اردو کے مختصر ڈرامے اور افسانے لکھے۔ ان کی شاعری کا منفرد پہلو پنجابی الفاظ اور محاوروں کو اردو میں سمونا ہے۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام “سانو لے من بھانو لے” تھا۔ ان کے صاحبزادے عباس ہادی بھی اچھے شاعر ہیں۔ محمود شاہ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے جھنگ میں آکر آباد ہوئے۔ پھر روزنامہ جنگ کراچی سے وابستہ ہوئے۔ اپنا ہفت روزہ معیار بھی جاری کیا۔ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہوئے۔ کارڈیمِ سپازم، چہرہ چہرہ میری کہانی، آخری رقص، نوشتہ دیوار، قربانیوں کا موسم اور محلوں میں سرحدیں۔ کئی دیگر کتب بھی تصنیف کیں۔ ملک کے معروف عالمِ دین، دانشور اور محقق ڈاکٹر محمد طاہر القادری 1951ء میں جھنگ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد علامہ فرید الدین قادری بلند پایہ عالمِ دین اور طبیب تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ لیکچرار رہے پھر کئی اہم اداروں کے رکن رہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے مشیر بھی رہے۔ 1980ء میں ادارہ “منہاج القرآن” کی بنیاد رکھی۔ بہت پر اثر خطیب اور مصنف ہیں۔ آپ کی اہم تصانیف میں “تفسیر منہاج القرآن”، تسمیۃ القرآن، اسلامی فلسفہ زندگی، نظامِ مصطفٰے، ہدایہ اور صاحبِ ہدایہ کا تعارف اور کئی انگریزی کتب شامل ہیں۔ نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبد السلام کا تعلق بھی سرزمینِ جھنگ سے ہے۔ وہ 1926ء میں پیدا ہوئے۔ طبیعیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ کئی بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور اداروں سے وابستہ رہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ڈاکٹر عبد السلام کو ان کے شہرہ آفاق تحقیقی مقالہ “اساسی قوتوں کی یکجائی” پر طبیعیات کے شعبہ میں نوبل انعام دیا گیا۔ وہ پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہیں۔ جھنگ کی دیگر قدیم اور جدید علمی و ادبی شخصیات کا تذکرہ کیا جائے تو ان میں میاں عمر حیات عمر جدولى کا مل اور پنجابی کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مجموعہ کلام “بیاضِ عمر” کے نام سے 1937ء میں مولوی محمد صدیق نے مرتب کیا تھا۔ میاں علی محمد گل بھی عالمِ فاضل شخصیت تھے۔ آپ نے خلافت، باغِ فدک اور رسوماتِ محرم وغیرہ کے موضوعات پر کم وبیش سولہ کتابیں اور رسالے تصنیف کیے۔ حافظ غلام محمد اعوان جو پنجابی کے شاعر تھے ان کی تمام تصانیف خالص مذہبی موضوعات پر مشتمل ہیں۔ مولانا فتح محمد کے علم و فضل کا بھی یہاں شہرہ تھا۔ انہوں نے قرآنِ مجید کا تفسیری حاشیہ لکھا اور تصوف پر پانچ رسالے تصنیف کیے۔ مولوی فضل الٰہی بھی یہاں کے اچھے شاعر تھے۔ انہوں نے شیخ سعدی شیرازی کی گلستان اور عربی فقہ کی کتاب کنز کا پنجابی میں منظوم ترجمہ کیا۔ آپ نے 1932ء میں وفات پائی۔ شاعر نقی الدین انجم بدایوں (انڈیا) سے قیامِ پاکستان کے بعد نقل مکانی کر کے جھنگ میں آکر آباد ہوئے۔ گورنمنٹ کالج جھنگ کے پرنسپل بھی رہے۔ معروف ادیب اور شاعر عبدالعزیز خالد کا تعلق بھی جھنگ سے ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جالندھر (انڈیا) سے ہجرت کر کے جھنگ آکر آباد ہوئے۔ کمشنر انکم ٹیکس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ عربی، اردو اور فارسی پر قدرتِ کاملہ حاصل تھی۔ لاہور میں انتقال ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔ زرداغِ دل، ماتمِ ایک شہرِ آرزو، فارقلیط، منحمنا، حمکایا، ماذ ماذ، طاب طاب نعتِ پیغمبر، ثانیِ لا ثانی، کفِ دریا، برگِ خزان، دکانِ شیشہ گر، ورقِ ناخواندہ، سلویٰ، دستِ شام، حدیثِ خواب، زنجیر، رمِ آہو وغیرہ آپ کی شاعری کے مجموعے ہیں 188۔ پروفیسر سید الباقر کا شمار بھی علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قیامِ پاکستان کے بعد جھنگ آکر آباد ہوئے۔ سائنس شعبہ میں متعدد نصابی کتب تصنیف کیں۔ شیکسپیئر کے ڈراموں کے اردو تراجم بھی کیے۔ جھنگ صدر کے رہنے والے شاعر او دے لال عشق کی نظمیں درسی کتب میں شامل ہیں۔ “شفقِ رنگیں” ان کا علیہ مجموعہ کلام ہے۔ صحافی اور مصنف لالا جمنا داس جھنگ شہر کے رہنے والے تھے۔ 1935ء میں روزنامہ تیج دہلی کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اقوامِ متحدہ کے شعبہ تصنیف و تالیف سے بھی وابستہ رہے۔ لالا سدھانند ورما جو افسانے اور ڈرامے بھی لکھتے رہے۔ جھنگ کے قدیم ہفت روزہ “جھنگ سیال” کے ایڈیٹر رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد دہلی چلے گئے اور وہاں سے اسی نام سے اخبار جاری کیا۔جھنگ کے معروف شاعر ساحر صدیقی مرحوم 1947ء میں انڈیا سے ہجرت کر کے جھنگ میں آکر مقیم ہوئے تھے۔ یزدانی جالندھری سے شاعری کا فن سیکھا۔ ان کے نعتیہ اور دیگر کلام کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں 189۔ پیر صاحب علی سحر، طاہر سردھنوئی اور آغا نو بہار علی خان کا شمار بھی یہاں کے شعراء میں ہوتا تھا۔ طاہر سردھنوئی کا انتقال 1972ء میں ہوا۔ اردو کے ممتاز نقاد و ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا قیامِ پاکستان کے بعد امرتسر سے آکر جھنگ میں آباد ہوئے۔ منشی پریم چند کے افسانوں پر ان کا تنقیدی جائزہ علمی دنیا میں مقبول ہے۔ ڈاکٹر محمد ظفر اور محمد منور جو جھنگ صدر کے قدیمی باسی تھے کا شمار بھی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر محمد ظفر نے کشمیر کے فارسی شعراء کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی۔ غنی کشمیری کی شاعری پر مبسوط کتاب لکھی۔ اس کے علاوہ وہ متعدد کتابوں کے مولف و مرتب ہیں اور یہ کتابیں پنجاب یونیورسٹی نے شائع کیں۔ محمد منور خان شاعر ہیں اور ان کی انقلابی نظموں کا مجموعہ “صدائے انقلاب” کے نام سے 1971ء میں شائع ہوا تھا 190۔ اسی طرح پروفیسر محمد رفیق جو اسلام آباد یونیورسٹی کے تحقیق علاقائی تاریخ و ادب کے پروفیسر ہیں۔ ان کی متعدد کتابیں علمی دنیا میں مقبول ہیں اس یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر خالد مسعود جو محمود شام کے بڑے بھائی ہیں کی متعدد کتب بھی چھپ چکی ہیں۔ آپ کچھ عرصہ اسلامیہ ہائی سکول جھنگ میں استاد رہے۔ پروفیسر سمیع اللہ قریشی کا تعلق بھی جھنگ سے ہے۔ آپ کے فاضلانہ اور تحقیقی مضامین مختلف علمی و ادبی جرائد میں شائع ہوئے۔ حضور دی حیاتی، ساڈی سوہنی دھرتی، قیامِ پاکستان تاریخی و تہذیبی پس منظر، قائد اعظم کی شگفتہ مزاجی اور لکھے جو کچھ آپ کی تصانیف ہیں۔ ظفر ترندی نے قدیم شاعری میں منفرد مقام اور شہرت حاصل کی۔ انہوں نے مرزا غالب کے دیوان کا جواب لکھا۔ غالب کی تمام شعری زمین پر غزلیں کہیں، فارسی اور عربی کے عالم تھے۔ جدید دور کے ادیب شاعر اور نقاد علی اکبر عباس کا تعلق بھی جھنگ سے ہے۔ محمد حیات خان سیال کی مرزا غالب پر تالیف نے ادبی حلقوں میں مقام حاصل کیا۔ ایک ایرانی ناول “پری چہرہ” کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ جھنگ کے دیگر ادبا اور شعرا میں پروفیسر جی ایم ملک، حکیم عین الحق حیرت، بیدل پانی پتی، احمد تنویر، محمد حیات خان سیال (مرحوم)، مفتی محمد یسین شاہ، آفتاب احمد، شفیع ہمدم، صفدر سلیم سیال، علی اکبر عباس، ممتاز بلوچ، مرزا معین تابش، ساجد اللہ تفہیمی، اصغر شاہبا، قدیر احمد قیس، احمد غفران، شارب انصاری، عبدالغفور الخیر، غلام محمد رنگین، حنیف بادا، خیر الدین انصاری، مظہر اختر، حکمت ادیب، نذیر عرشی، ریاض رام، سید منظور حسین نقوی، ایثار ردائی، غلام مرتضیٰ ترک، مولانا گوہر صدیقی، رنگ علی شاہ، پنڈت کشمیری لعل، مولانا عبدالرشید حنیف، محمد فیروز فاروقی، مبارک علی خان سیال، سید افضل حسین شاہ، صفدر علی شاہ، علی کوثر جعفری، محمد شفیع ہمدم، حافظ جمال محمد، چوہدری خلیل الرحمن، حافظ احمد یار، خادم حسین خادم، مغل لدھیانوی، حسن علی گوہر، بلال زبیری، انیس انصاری، افتخار احمد افتخار، باقی علی سحر اور ڈاکٹر محسن مگھیانہ کے نام نمایاں ہیں۔ ان میں سے ادیب، محقق اور نقاد محمد حیات خان سیال 1930ء میں پیدا ہوئے اور 1982ء میں وفات پائی۔ تجلیاتِ اقبال، اقبال غیر مسلموں کی نظر میں، احوال و نقدِ غالب، احوال و نقدِ حالی، احوال و نقدِ وجہدی، گلاب کے پھول، ہمارے شاعر، ہمارے نثر نگار اور فردوسِ بریں پر ایک نظر آپ کی کتب ہیں۔ حکیم مفتی محمد یٰسین شاہ جو 1914ء میں پیدا ہوئے اور 1999ء میں وفات پائی کی کتب میں نے پاکستان بنتے دیکھا، دیوانِ کشمیر، قائدِ اعظم اور دورِ کشمیر، اردو ادیب اور بچوں کے معروف ناول نگار آفتاب احمد کے سو سے زائد بچوں کے ناول شائع ہوئے۔ علی اکبر عباس کی کتب بر آبِ نیل، درگاہ سے، رچنا، چار دن، کافی سے کافی، زبورِ عجم کا منظوم اردو ترجمہ، صفدر سلیم سیال کی کتب پیشِ نظر، خواب تبدیل کریں، مجید امجد ایک مطالعہ، شفیع ہمدم، کی چانن، تصویر گواچ گئی اور خالد محمود خاں کی کتب آزادی کا طویل سفر (نیلسن منڈیلا کی خود نوشت کا ترجمہ) اور کیمیا گر (ناول الکیمسٹ کا اردو ترجمہ) شائع ہوئیں۔ معروف شاعر فرحت عباس کا تعلق بھی جھنگ سے ہے۔ ان کے شاعری کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ پنجابی کے شاعر ممتاز بلوچ کی کتب چٹھیاں سجناں دیاں اور مزدور شائع ہوئیں۔ احمد علی نسیم، محمد شفیع منظر، لطیف شیدائی، سید مظاہر حسین ترندی، عبداللہ عاصی، یعقوب ابو الخیری، غضنفر علی شاد، امیر اختر بھٹی، احمد بشیر لگا، غلام فرید عصمت اور محمد اسحاق کھرل بھی یہاں کے شعرا میں شامل ہیں۔ شاعر اور ادیب محسن مگھیانہ 1956ء میں جھنگ میں پیدا ہوئے۔ جھنگ میں فیصل مگھیانہ میموریل ہسپتال قائم کیا۔ انوکھا لاڈلا، بھنیری، چھیڑ خانی، دیسی ان ولایت، مسئلہ ہی کوئی نہیں، انخندر ے، انکھیلیاں، چغتا، الف میم، سفر نامہ حج، یہ کیسی محبت ہے اور تیرے باجھوں آپ کی تصانیف ہیں۔ ضلع جھنگ کی ایک اور اہم ادبی شخصیت ڈاکٹر نصر عباس نیر کی ہے۔ وہ ادیب، محقق اور نقاد ہیں۔ 1965ء میں پیدا ہوئے۔ تکمیلِ تعلیم کے بعد پنجاب یونیورسٹی اور اورینٹل کالج میں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ دن ڈھل چکا تھا، جدیدیت سے پسِ جدیدیت تک، چراغِ آفرید م، معمارِ ادب نظیر صدیقی، جدید اور مابعدِ جدید، ساختیات ایک تعارف اور مابعدِ جدیدیت آپ کی تصانیف ہیں۔ جھنگ سے تعلق رکھنے والے ایک اور معروف ادیب اور شاعر سجاد بخاری تھے۔ ان کا انتقال 2006ء میں ہوا۔ انگریزی، اردو، پنجابی، فارسی اور عربی زبان پر ان کو مکمل دسترس حاصل تھی۔ پنجابی میں ان کا شعری مجموعہ “موسم تیرے درگا” جبکہ اردو شعری مجموعہ “خیمہ جان” شائع ہوئے۔ پاکستان میں بچوں کے جاسوسی ادب کے بانی اشتیاق احمد کا تعلق بھی جھنگ سے تھا۔ 50 سال سے زائد عرصہ ادب سے وابستہ رہے۔ درجنوں کتب کے مصنف تھے۔ نومبر 2015ء میں انتقال ہوا۔ جھنگ میں کئی برگزیدہ شخصیات اور اولیاء بھی دفن ہیں۔ ان میں سے ایک قدیم بزرگ حضرت نور شاہ مداری ہیں۔ جو 901ھ میں پیدا ہوئے اور 990ھ میں وفات پائی۔ آپ عہدِ اکبر کے صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ آپ کا مزار پہلے شہر کے وسط میں تھا۔ بعد میں سیلاب کے باعث اجڑ گیا تو نواب ولی داد خان کے عہد میں دوسری طرف نیا شہر بسایا گیا تو یہ ایک طرف ہو گیا۔ آپ کا عرس ہر سال 12 ہاڑ تک کو منایا جاتا ہے۔ جھنگ شہر میں لبِ سڑک سید احمد کبیر نامی بزرگ کا مزار ہے۔ آپ ساداتِ بخاری سے تعلق رکھتے تھے اور گیارہویں صدی ہجری میں جھنگ تشریف لائے تھے۔ آپ کا سالانہ عرس 12 بھادوں کو ہوتا ہے۔ جھنگ صدر کے محلہ بھڑانہ میں مدفون پیر باقی شاہ نامی بزرگ 1178ء میں فوت ہوئے تھے۔ آپ خانواہ شاہ جیونہ سے تعلق رکھتے تھے۔ محلہ بلاق شاہ میں سائیں بلاق شاہ کا مزار ہے۔ آپ کا انتقال 1183ھ میں ہوا۔ جھنگ صدر کے قدیمی قبرستان میں مائی ترک صاحبہ کا مزار ہے۔ آپ ترکی النسل تھیں اور عارف باللہ تھیں۔ آپ کا انتقال تقریباً پونے دو سو سال قبل ہوا تھا۔ جھنگ صدر میں مدفون ایک اور بزرگ دھی پیر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا اصل نام فیض اللہ تھا۔ آپ کی ولادت 1050ھ میں اور وفات 1180ھ میں ہوئی۔ آپ صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ جھنگ صدر کے بازار لوہاراں میں پانچ شہیدوں کی قبریں ہیں۔ جھنگ کے قدیمی باشندے محرم کی دسویں تاریخ کو ہر سال ان قبروں پر پانی اور کھجور کے پتے ڈالتے ہیں۔ جھنگ صدر ہی کے محلہ شیخ لاہوری میں بابا شیخ لاہوری نامی ولی اللہ کا مزار ہے۔ آپ کے والد حضرت میاں میر صاحب کے خدام میں شامل تھے۔ آپ کی ولادت 1032ھ میں ہوئی۔ لاہور سے جھنگ آئے تھے اور یہی 1185ھ میں انتقال فرمایا۔ ہر سال 7 بیساکھ کو ان کا عرس میلہ ہوتا ہے۔
قبرستان جلیانہ جھنگ صدر میں حافظ عبدالکریم نقشبندی نامی بزرگ کا مزار ہے۔ آپ گیارہویں صدی ہجری کے صاحبِ جلال بزرگ ہوئے ہیں اور شریعت کے عالم اور سلسلہ قادریہ کے مبلغ تھے۔ ریل بازار میں حضرت میاں عثمان کا مزار ہے۔ آپ سلسلہ نقشبندیہ کے درویش اور اعلیٰ مقام بزرگ ہوئے ہیں۔ 1172ھ میں ولادت اور 1199ھ میں وفات پائی۔ چوک بازار جھنگ صدر میں حافظ علی محمد نقشبندی کا مزار ہے۔ آپ افغانستان کے علاقہ ہرات سے یہاں آئے تھے۔ 1180ھ میں وفات پائی۔ محلہ گوہر شاہ میں پیر گوہر شاہ گیلانی نامی بزرگ کا مزار ہے۔ آپ کا اصل وطن قصبہ چوٹی ضلع ڈیرہ غازی خان تھا۔ مرشد کے حکم پر آپ جھنگ تشریف لائے اور یہی 1176ھ میں وفات پائی۔ آپ صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ محلہ پنڈی جھنگ صدر میں مبارک شاہ سندھی کا مزار ہے۔ وہ 1060ھ میں پیدا اور 1172ھ میں فوت ہوئے۔ جھنگ صدر کی مال روڈ لبِ سڑک مراد شاہ نقشبندی نامی بزرگ دفن ہیں۔ وہ 1179ھ میں پیدا ہوئے تھے۔ جھنگ شہر میں حضرت سلطان ہاتھی وان کا مزار ہے۔ آپ کا اصل نام سید امان اللہ تھا۔ یوپی ہندوستان کے ساداتِ باہرہ کے چشم و چراغ تھے۔ 1168ھ میں ان کی ولادت اور 1250ھ میں وفات پائی۔ اپنے وقت کے کامل بزرگ اور صاحبِ کشف و کرامات تھے۔ ان کے علاوہ محلہ حسنانہ جھنگ صدر میں مائی چھمبیانوانی اور حافظ جمال محمد نقشبندی بابا پھولا اور محمد ابراہیم چنیوٹی نامی بزرگوں کے مزارات بھی موجود ہیں۔ جھنگ کی آبادی 1972ء میں 131833، 1981ء میں 195558 اور 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 293366 نفوس پر مشتمل تھی۔ 2005ء میں اس کی آبادی 377713 افراد تھی۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 413131 نفوس پر مشتمل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *