اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ کا ایک مشہور قصبہ ہے جو براستہ تریموں ہیڈورکس جھنگ سے تقریباً چوبیس کلومیٹر دور ہے۔ مخدوم تاج الدین اٹھارہ ہزاری کی نسبت سے اس قصبے کا نام پڑا۔ یہ بزرگ یہی دفن ہیں اور ان کا مزار اس علاقے کی شہرت کا سبب ہے۔ حضرت مخدوم تاج الدین المعروف اٹھارہ ہزاری دراصل غزنی کے رہنے والے تھے۔ سلطان محمود غزنوی کی فوج میں اعلیٰ عہدیدار تھے۔ جب آپ تریموں پہنچے تو اس جگہ قدرتی حسن سے متاثر ہو کر دریاۓ جہلم کے کنارے کیمپ لگا لیا۔ یہی آپ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد آپ کو آپ کی وصیت کے مطابق اسی جگہ دفن کر دیا گیا۔ جب سلطان محمود کو آپ کی وفات کی خبر ملی تو وہ سخت رنجیدہ ہوا اور آپ کی قبر پر پختہ مزار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ بعض روایات کے مطابق سلطان محمود غزنوی کے بیٹے مسعود نے ہندوستان میں سب سے پہلے جو عمارت تعمیر کروائی وہ یہی مزار تھا۔ سیلاب کے باعث یہ قدیم مزار گر گیا تو حضرت اٹھارہ ہزاری کے جسدِ خاکی کو موجودہ جگہ لا کر دفن کیا گیا۔ یہاں ہر سال ان کا عرس میلہ لگتا ہے جس میں ہزاروں عقیدت مند دور دور سے شرکت کرتے ہیں۔ ان کے نام کے ساتھ اٹھارہ ہزاری کے لقب کی وجہ کے بارے میں دوروایتیں پائی جاتی ہیں۔ اول یہ کہ آپ نے دریا میں ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر قرآنِ کریم کے اٹھارہ ہزار دور مکمل کیے اور دوسری روایت یہ ہے کہ آپسلطان محمود غزنوی کی فوج میں اٹھارہ ہزاری کے منصب پر فائز تھے اور جب آپ اس علاقے میں وارد ہوئے تو 18,000 فوجی آپ کی کمان میں تھے۔ یہ روایت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے 25۔انگریزی عہد میں یہاں تھانہ اور ڈسپنسری قائم ہوئے۔ اب یہاں طلبا و طالبات کے سکول، ہسپتال، شفاخانہ حیوانات، بینکوں کی شاخیں بھی موجود ہیں۔ اٹھارہ ہزاری کے طلبا و طالبات کے ہائی سکول قریبی قصبہ واصُو میں موجود ہیں۔ یہاں ایک مین بازار، سبزی منڈی اور قریب ہی حق باہو شوگر مل اور شکر گنج شوگر مل کے صنعتی یونٹس بھی ہیں۔ پانچ مرلہ سکیم، آبادی اٹھارہ ہزاری اور تیزی محلہ یہاں کی رہائشی آبادیاں ہیں۔ معروف لوک گلوکار منصور ملنگی کا تعلق اسی قصبے سے تھا۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 27,561 نفوس پر مشتمل ہے۔