چنیوٹ

نـگـر نـگـر پنجـاب

پنجاب کا مشہور شہر اور ایک ضلع، 1 جولائی 2009ء کو اسے ضلع کا درجہ حاصل ہوا۔ اس سے قبل جھنگ ضلع کی تحصیل رہا۔ اس نئے ضلع میں چنیوٹ، بھوانہ اور لالیان کی تحصیلیں شامل کی گئیں۔ یہ شہر فیصل آباد کے شمال کی طرف 35 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ یہ شہر کب آباد ہوا، کس نے اسے بسایا، چنیوٹ کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔ اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ شہر قبل مسیح میں بھی آباد تھا۔ اس کے نام کے بارے میں یہ روایت عام ہے کہ اس کی بنیاد کسی راجہ کی بیٹی نے رکھی تھی جس کا نام چندن تھا۔ ایک سفر کے دوران اس کا قیام اس جگہ ہوا تو اسے یہ مقام بہت دلکش لگا۔ دریا، پہاڑ اور میدان سب کچھ انوکھا تھا۔ چنانچہ اس نے یہاں ایک شہر بسانے کا حکم دیا چنانچہ اس کے نام پر چندن کی نسبت سے چندن اوٹ یعنی چندن کا گھر کہلایا۔ پھر یہ نام چند نیوٹ اور آخر پر چنیوٹ مشہور ہو گیا۔ اس مقام پر دو چھوٹے چھوٹے قدرتی پہاڑ ہیں اور ایک چھوٹی سی پہاڑی عین شہر کے اندر واقع ہے۔ اس ٹیلے کے اوپر کسی حاکم نے قدیم دور میں قلعہ بنانا شروع کیا تھا مگر وہ نامکمل رہا۔ اس کے نشان اب بھی عمر حیات محل کے بالمقابل دیکھے جا سکتے ہیں۔چنیوٹ ایک قدیم شہر ہے۔ سکندرِ اعظم جب قبل مسیح میں پنجاب پر حملہ آور ہوا اور پورش کو شکست دینے کے بعد اپنی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصہ شیخوپورہ کے علاقے سے ہوتا ہوا سانگلہ، ساندل بار، کرانہ بار، چنیوٹ پہنچا۔ فوج کا دوسرا حصہ دریائے جہلم میں داخل ہوا اور کشتیوں کے ذریعے تریمو گھاٹ پہنچا۔ فوج کا جو حصہ چنیوٹ گیا تھا وہ بھی کشتیوں کے ذریعے دریائے چناب عبور کر کے تریمو گھاٹ پہنچ گیا۔ اس سے قبل سکندر جب ٹیکسلا پہنچا تھا تو ٹیکسلا کی یونیورسٹی میں متعین استاد چانکیہ نے راجہ کو سکندر کا مقابلہ کرنے کے لیے آمادہ کرنا چاہا مگر راجہ نے سکندر کی افواجِ کثیر دیکھ کر مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور سکندر کی اطاعت قبول کر لی۔ بعد ازاں چانکیہ نے چندر گپت موریا کو اس کام کے لیے تیار کیا جو اس کا شاگرد تھا۔ چنانچہ چندر گپت موریا نے بغاوت کی اور چنیوٹ، بھیڑہ، شورکوٹ، اسوانی اور ملتان سمیت بہت سارے علاقوں پر اس کی حکومت قائم ہو گئی۔ چانکیہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ چنیوٹ کا رہنے والا تھا۔ جب پنجاب پر اہل باختر کی حکومت قائم تھی تو اس دوران یونان کے ایک جنگجو قبیلہ بکیزین نے پنجاب پہنچ کر شورش پیدا کی اور ملتان، شورکوٹ کے علاوہ چنیوٹ کے علاقے فتح کر لیے اور اپنی حکومت بنا لی۔ مگر یہ تھوڑے عرصے بعد ہی ختم ہو گئی اور باختریوں کا اقتدار ان علاقوں پر دوبارہ قائم ہو گیا۔ ہیچی خاندان کی حکومت کے دوران چنیوٹ صوبہ برہمن گڑھ میں شامل تھا۔ جو موجودہ جھنگ کے مقام پر تھا۔ اس خاندان کا رائے چند جب حکمران بنا تو چنیوٹ کے سردار رائے ہرمن نے بغاوت کر دی۔ لیکن اسے شکست کا سامنا کرنا پڑامحمد بن قاسم کے حملہ کے وقت اس کی فوجیں چنیوٹ تک آ پہنچی تھیں اور یہاں انہوں نے اسلامی پرچم لہرایا۔ ان علاقوں پر قبضے کے بعد محمد بن قاسم نے سندھ سے چنیوٹ تک ریاست کو پانچ صوبوں میں تقسیم کیا۔ (1) روزر (موجودہ روہڑی)، (2) ملتان، (3) شور کوٹ، (4) چندرود (چنیوٹ)، (5) کوٹ کروڈ۔ مورخ یعقوبی نے شورکوٹ کا نام برہما پور اور چنیوٹ کا نام چندرود لکھا ہے۔ چنیوٹ کے لیے حزیم بن عبدالملک تمیمی گورنر مقرر ہوئے ۔ محمود غزنوی کے حملہ ہندوستان کے دوران بھیڑہ کی مہم میں چنیوٹ کے حاکم جیون ٹانڈہ نے محمود کا ساتھ دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بھیڑہ کا حکمران بجے راؤ چنیوٹ کی ریاست پر قبضہ کرنے کا خواہاں تھا اور آئے دن سرحدوں پر جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔ محمود نے بھیڑہ فتح کر کے اسے چنیوٹ کے تابع کر دیا۔ اس وقت چنیوٹ ریاست کی حدود بھیڑہ، پنڈی بھٹیاں، خوشاب، برہمن گڑھ، سانگلہ اور تریمو گھاٹ تک وسیع تھیں۔ محمود کے دوسرے حملہ کے وقت جب اس نے قلعہ شورکوٹ کو فتح کیا تو اسے بھی ریاست چنیوٹ کے تابع کر دیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر یہ علاقے ملک ایاز کی نگرانی میں رہے۔ غوریوں کے عہد میں یہاں نولوں کا اقتدار قائم ہوا۔ تغلق دورِ حکومت میں یہ صوبہ ملتان کے ماتحت آیا۔ جب سلطان محمد تغلق نے ملتان کے گورنر کشلو خان کو حکم عدولی پر قتل کروایا تو اس کا سر کاٹ کر شورکوٹ، جھنگ اور چنیوٹ میں پھر وایا اور پھر ملتان کے ایک دروازہ پر لٹکا دیا گیا۔ 1398ء میں یہ علاقہ امیر تیمور کے ماتحت ہوا۔ خاندانِ سادات کے مبارک شاہ نے جب تیموری سلطنت کا جوا اتار کر اپنی خودمختاری کا اعلان کر دیا تو وہ وسیع لشکر لے کر چنیوٹ پہنچا، جہاں معمولی مزاحمت کے بعد حاکم چنیوٹ نے شکست قبول کر کے صلح کر لی۔ جھنگ کے نول حکمران نے سلطان مبارک کو ہر قسم کی آسائش خوراک اور اسلحہ فراہم کیا۔ مغلوں کے عہد کے آغاز میں چنیوٹ کے علاقے پر منگورائے جاٹ حکمران تھا اور اس کی حکمرانی میں پنڈی بھٹیاں سے لے کر دریائے جہلم کے مغربی کنارے تک کا علاقہ شامل تھا۔تاریخِ جھنگ کے مصنف بلال زبیری کے مطابق سولہویں صدی عیسوی میں چنیوٹ کے علاقہ پر تاتاری سردار مغلی حکمران تھا۔ اس نے خوشاب پر حملہ کر کے وہاں کے حاکم ماچی خان کو شکست کے بعد قتل کر دیا اور خوشاب کو ریاست چنیوٹ کا حصہ بنا لیا۔ دو سال بعد ماچی خان کی بہن پٹنی نے بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے زبردست فوجی تیاری کی اور فوج لے کر چنیوٹ پر حملہ کر دیا۔ مغلی خان قلعہ بند ہو گیا۔ پٹنی نے دریا کے مغربی کنارے پر موجود آبادی کو تہس نہس کر دیا، مکان جلوا دیئے اور پھر دریا پار کر کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔ بالآخر پٹنی قلعہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی اور گھمسان کی جنگ کے بعد قلعہ فتح کر کے مغلی کا خاتمہ کر دیا۔ چنیوٹ پر فتح حاصل کرنے کے بعد پٹنی نے تباہ شدہ شہر کا ملبہ صاف کرا کے دوبارہ شہر بسانے کا حکم دیا۔ موجودہ شہر اسی کا بنایا ہوا ہے۔ پٹنی نے چنیوٹ اور خوشاب کی حکومت سنبھال لی۔ بہت سی اصلاحات نافذ کیں۔ اس طرح چنیوٹ اس دور کے ترقی یافتہ شہروں میں شمار ہونے لگامغلوں کو شکست دے کر جب شیر شاہ سوری نے حکومت قائم کی تو وہ ہمایوں کے تعاقب میں شہر بہ شہر فوج لے کر گھوما۔ وہ جب بھیڑہ اور وہاں سے خوشاب پہنچا تو پھر چنیوٹ گیا۔ یہاں کے لوگ اطاعت گزار ہوئے۔ اسی جگہ شیر شاہ نے شورکوٹ اور جھنگ کے امرا کو بلایا اور انعام و اکرام سے نوازا۔ اس نے چنیوٹ سے جھنگ تک دریا کے مشرقی کنارے پختہ سڑک بھی تعمیر کرائی جو شاہراہِ اعظم سے ملائی گئی تھی۔ اکبر کے عہد میں چنیوٹ صوبہ ملتان میں شامل تھا۔ شاہجہان عہد میں وزیر خان پنجاب کا حکم رہا۔ وزیر خان نے شاہجہان کی بغاوت میں اس کا بھرپور ساتھ بھی دیا تھا۔ وزیر خان کا تعلق چنیوٹ سے تھا۔ انہوں نے لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان کے علاوہ چنیوٹ میں کئی تعمیرات کرائی تھیں۔ یہاں انہوں نے قلعہ رختجی جو بڑا لمبا چوڑا تھا تعمیر کرایا۔ نیز ایک شفا خانہ، تین سرائیں، سات آٹا پیسنے کی چکیاں، متعدد چوکیاں، اصطبل اور فقرا کے حجرے بنوائے۔ ان تعمیرات کا اب نام و نشان نہیں ۔ قلعہ رختجی کے کچھ آثار البتہ باقی ہیں۔ شاہجہان کے دربار میں سب سے زیادہ
اور تاریخی شہرت نواب سعد اللہ خان کو ملی۔ وہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ وہ چنیوٹ کے موضع پتراکی کے تھہیم خاندان سے تھے۔ کے بعد محمد بن قاسم نے سندھ سے چنیوٹ تک ریاست کو پانچ صوبوں میں تقسیم کیا۔ (1) روزر (موجودہ روہڑی)، (2) ملتان، (3) شور کوٹ، (4) چندرود (چنیوٹ)، (5) کوٹ کروڈ۔ مورخ یعقوبی نے شورکوٹ کا نام برہما پور اور چنیوٹ کا نام چندرود لکھا ہے۔ چنیوٹ کے لیے حزیم بن عبدالملک تمیمی گورنر مقرر ہوئے۔ شاہجہان حکومت کا وزیر اعظم بنا تو اس نے حضرت برہان کا عالی شان مزار تعمیر کرایا۔ یہ مقبرہ خاص مغلیہ طرزِ تعمیر کا عکاس ہے اور آج بھی چنیوٹ میں ماضی کی دلکش یادگار کے طور پر ہے۔ ایک دن نواب سعد اللہ خان کو خواب میں حضرت شاہ برہان کی زیارت ہوئی۔ تو انہوں نے فرمایا “سعد اللہ خان! کیا ہی اچھا ہو تا تم میرے مزار کی بجائے چنیوٹ میں بندگانِ خدا کے لیے ایک مسجد تعمیر کراتے”۔ اگلے ہی روز سعد اللہ خان نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ یوں چنیوٹ شہر کے وسط میں شاہی مسجد قائم ہوئی۔ یہ مسجد اپنی نفاسات اور خوبصورتی کے باعث شہر کے ٹھومر کا درجہ رکھتی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر چنیوٹی پتھر سے ہوئی جسے سنگِ سیاہ یا سنگِ ابری کہا جاتا ہے۔ یہ پتھر آج بھی دریا کے دوسرے کنارے پر واقع ایک گاؤں شتاب گڑھ میں دستیاب ہے۔ اسی پتھر سے نواب سعد اللہ خان کے صاحبزادے حفیظ اللہ خان عرف میاں خان کا لاہور میں مقبرہ بھی تعمیر کرایا گیا۔ بعد میں مسجد کی مرمت اور تعمیرِ نو میں بھی یہی پتھر شتاب گڑھ سے لایا گیا۔ 1806ء میں رنجیت سنگھ نے اس مسجد کو نقصان پہنچایا۔ 1960ء میں یہ محکمہ اوقاف کی تحویل میں آئی اور 1972ء میں اس کی ترئین و آرائش کی گئی۔مغلوں کے عہدِ آخر تک چنیوٹ امن و خوشحالی کا گہوارہ رہا۔ بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کے عہد میں نواب سعد اللہ خان کے پوتے محی الدین خان کو چنیوٹ، بھیڑہ، جھنگ، خوشاب، کوہستان اور شورکوٹ کے لیے نگران گورنر مقرر کیا گیا۔ محی الدین نے چنیوٹ کی تاریخی عمارتوں کی مرمت کرائی۔ جناں، بپرا، چدھڑ اور رجوکا قبائل کو جاگیریں عطا کیں۔ یہ جھنگ کے سیال حکمرانوں کے ماتحت بھی رہا۔ اٹھارویں صدی کے وسط میں درانی حملہ آوروں کی وجہ سے اس شہر کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس عرصے میں چنیوٹ کو سیالوں اور دو سکھ دھڑوں یعنی بھنگیوں اور سکر چکیوں کی لڑائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھنگی سردار سردار جسا سنگھ نے چنیوٹ پر قبضہ کیا اور یہاں خوب لوٹ مار کی۔ شہر کے باسیوں نے اس کا خوب مقابلہ کیا تھا۔ 1818ء میں رنجیت سنگھ خود فوج لے کر چنیوٹ آپہنچا اور قلعہ چنیوٹ کا محاصرہ کر کے جسا سنگھ کو خوب پریشان کیا۔ جب توپ کے گولوں سے قلعہ کی دیوار مسمار ہونے لگی تو جسا سنگھ نے اپنا وکیل رنجیت سنگھ کے ہاں بھیج کر کہلا بھیجا کہ اگر خود رنجیت سنگھ زعفران کا پنجہ کاغذ پر لگا کر اور گرو گوبند سنگھ کا نام لکھ کر اس کی حفاظت کی ضمانت دے تو وہ حاضر ہو جائے گا۔ رنجیت سنگھ نے اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے اس کی ضمانت دے دی اور عہدنامہ طے پا گیا۔ اس طرح سکھ فوج شہر میں گھس گئی اور رعایا کو خوب لوٹا۔انگریزوں نے ضلع جھنگ پر 1838ء میں قبضہ کیا تو چنیوٹ کو ضلع جھنگ میں شامل کیا گیا۔ اسی دوران یہاں تحصیل دفاتر، تھانہ، ڈسپنسری، ڈاکخانہ اور بنگلہ وغیرہ تعمیر ہوئے۔ 1868ء میں چنیوٹ شہر کی آبادی 11477، 1881ء میں 11999، جبکہ 1881ء میں 10731 افراد پر مشتمل تھی۔ ان میں سے 3275 ہندو، 113 سکھ اور 7342 مسلمان تھے۔ جبکہ 1881ء کی مردم شماری کے مطابق چنیوٹ تحصیل کی آبادی 128231 نفوس پر مشتمل تھی۔ جب انگریزوں کے خلاف نفرت کے جذبات ابھرے تو چنیوٹ کی شاہی مسجد کے امام مولانا نور احمد نقشبندی نے 1285ھ میں انگریزی حکومت سے عدم تعاون کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ اس بنا پر آپ کو قید و بند میں رکھا گیا۔ 1931ء کی تحریکِ کشمیر میں چنیوٹ کے غازی الہی بخش نے بھی اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ الہی بخش کے وہ کپڑے جو اس نے شہادت کے وقت پہنے ہوئے تھے آج بھی چنیوٹ کے عمر حیات محل میں موجود ہیں۔ تحریکِ پاکستان کی سرگرمیوں میں بھی یہاں کے عمائدین نے اہم کردار ادا کیا تھا۔چنیوٹ کی شیخ برادری تجارت اور صنعت کے میدان میں اہم مقام رکھتی ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل تجارتی اعتبار سے یہ ہندوؤں سے کسی بھی طور میں پیچھے نہ تھے۔ چونکہ ہندو چمڑے اور ہڈیوں کا کاروبار نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ اس میدان پر چنیوٹ کے شیخوں کا اجارہ تھا۔اس برادری کے سیٹھ محمد یعقوب نے قائد اعظم کے دورہ کلکتہ کے موقع پر ایک لاکھ روپے کی تھیلی پیش کی تھی۔ آج بھی اس برادری کے لوگ کراچی، لاہور اور فیصل آباد میں تجارت اور صنعت کے میدان میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ چنیوٹ میں اس برادری نے فلاحِ عامہ کے کئی ادارے قائم کیے۔ ہسپتال، کالج، سکول بنائے۔ اسلامیہ کالج چنیوٹ، اسلامیہ ہائی سکول، اصلاحِ ماحول سکول، فضل الہی ہسپتال، خواتین کا ڈگری کالج، اسلامیہ ہسپتال ان کے فلاحی کاموں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں کی انجمنِ اسلامیہ کا کردار بڑا فعال رہا ہے۔اس شہر کے فنِ تعمیر کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیٹھ عمر حیات کا محل اور شاہی مسجد یہاں کے ماہرینِ تعمیر کے دستِ ہنر کے گواہ ہیں۔ الہی بخش برچھہ اور رحیم بخش برچھہ اور ان کی اولادیں اس ہنر میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ دہلی کی شاہی مسجد، تاج محل اور قلعہ آگرہ کی تعمیر میں بھی یہاں کے کاریگروں نے حصہ لیا تھا۔ فنِ تعمیر کے علاوہ لکڑی کے کام میں بھی چنیوٹ اصل آماجگاہ ہے۔ فرنیچر سازی کے فن نے بھی چنیوٹ میں جنم لیا۔ چنیوٹ کا فرنیچر بھی اپنی مثال آپ ہے اب تو ملک بھر میں چنیوٹ فرنیچر کے مراکز ہیں۔ چنیوٹ کے محلہ راجاں، راج والی اور دیگر بے شمار عمارات کا طرزِ تعمیر اور نفاسات دیدنی ہے۔ چنیوٹ کیٹرنگ اور کھانے پکانے میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ کنبے یعنی مٹکے کا گوشت اپنی لذت اور مزے کی بنیاد پر چنیوٹ کی سوغات سمجھا جاتا ہے۔ چنیوٹ کی مٹھائیاں اور سوہن حلوہ ملک بھر میں مشہور ہے۔ یہاں کے مٹھائی ساز ادارے مولوی سویٹ ہاؤس کی دیسی گھی سے تیار کردہ مٹھائیاں کراچی تک جاتی ہیں۔چنیوٹ میں حضرت شاہ برہان، شاہ اسماعیل بخاری، حضرت جمیل الدین قریشی، جلیل الدین قریشی، شیخ حسین شاہ، میاں حماند متھرمہ، مخدوم احمد داؤد، مولانا نور احمد نقشبندی، حضرت مشکی شاہ، پیر سید احمد شاہ اور حضرت معظم شاہ نامی بزرگوں کے مزارات بھی ہیں۔ دریائے چناب کے اندر ایک جزیرہ نما جگہ ہے جسے حضرت بو علی قلندر کی چلہ گاہ کہتے ہیں۔ یہاں ہر سال میلہ بھی لگتا ہے۔ سائیں سکھ کا مزار بھی چنیوٹ میں ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی یہ مزار تعمیر کروا لیا تھا۔ شیشہ سازی کے فن کے اعتبار سے یہ مزار اپنی مثال آپ ہے۔ مذکورہ بزرگوں میں سے حضرت شاہ برہان ساداتِ بخاری سے تھے۔ آپ کی ولادت 981 ہجری میں ہوئی۔ آپ لاہور میں میاں میر کے ہم عصر تھے۔ 1002 ہجری کے قریب واردِ چنیوٹ ہوئے۔ آپ سلسلہ سہروردیہ سے بیعت بھی تھے۔ آپ کی وفات 1061ھ میں ہوئی۔ ان کے مزار پر وزیر ہند نواب سعد اللہ خان نے پختہ مقبرہ بنوایا جو اب تک سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔ ہر سال 12 رمضان کو ان کا عرس منایا جاتا ہے۔ حضرت شاہ اسماعیل بخاری حضرت سید شیر شاہ جلال سرخ بخاری اُچ شریف کے خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کی ولادت 762ھ میں ہوئی اور 818ھ میں واردِ چنیوٹ ہوئے۔ آپ نے متعدد غیر مسلم قبیلوں کو حلقہ بگوشِ اسلام کیا۔ آپ کی اولاد کو شیخ سلمان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ آپ نے 850ھ میں انتقال فرمایا اور ششمتی سیداں میں دفن ہوئے۔ حضرت مخدوم داؤد احمد 1061ھ میں پیدا ہوئے اور حجرہ شاہ مقیم سے فیض یافتہ تھے۔ اپنے بھائی مخدوم کمال الدین کے کہنے پر چنیوٹ تشریف لائے۔ آپ متبحر عالمِ دین تھے اور سلسلہ نقش بندیہ کے مبلغ تھے۔ حضرت شیخ حسین شاہ قریشی النسل اور حضرت عبداللہ جہانیاں کی اولاد میں سے تھے۔ ان کی ولادت 1121ھ میں ہوئی اور وفات 1192ھ میں ہوئی۔ آپ جہانیاں سے چنیوٹ تشریف لائے۔ آپ صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ عرفِ عام میں آپ کو ڈھگی والا پیر کہا جاتا ہے۔ ڈھگی بلندی کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ آپ کی اولاد میں نیکوکارہ قوم مشہور ہے۔ میاں حماند متھرمہ کی ولادت 1113 ہجری میں ہوئی اور 1198ھ میں وفات ہوئی۔ حضرت حافظ علی محمد صاحب نقشبندی (جھنگ صدر) کے خلیفہ مجاز تھے۔ بعد ازاں چنیوٹ تشریف لے آئے۔ آپ اپنے وقت کے کامل ولی اللہ تھے۔ آپ کا ہر سال عرس منایا جاتا ہے۔ چنیوٹ کے ایک قدیم بزرگ مخدوم جلیل الدین قریشی تھے۔ آپ کا مزار کارخانہ مولا بخش مقبول احمد گوہر کے احاطے میں واقع ہے۔ایک اور بزرگ حضرت جمیل الدین قریشی جو چنیوٹ میں مدفون ہیں۔ ان کی وفات 701ھ میں ہوئی تھی۔ حضرت مولانا نور احمد نقشبندی اپنے عہد کے عالمِ باعمل، جنگِ آزادی کے مجاہد، پیرِ طریقت، صاحبِ کرامت اور ہمہ صفت بزرگ تھے۔ آپ کی ولادت 1220 ہجری میں تحصیل پٹھالیہ میں ہوئی تھی۔ 1238ھ میں چنیوٹ وارد ہوئے اور مسجد لوہاراں والی محلہ رختجی کو سرچشمہِ فیض بنایا۔ جنگِ آزادی کے دوران انگریزوں کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا۔ آپ صاحبِ تصنیف بھی تھے۔ 1299ھ میں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ قبرستان دیوان حافظ میں سپردِ خاک ہیں جہاں ہر سال آپ کا عرس منایا جاتا ہے۔چنیوٹ کے قریب دریائے چناب پر پہلے دو پل تھے۔ اوپر والے پل پر سڑک تھی جس کے نیچے والے پل پر ریلوے لائن تھی۔ انگریزی دور کے اس پل کا سڑک والا حصہ اب نا قابلِ استعمال ہے جبکہ ریل حسبِ سابق نیچے والے پل ہی سے گزرتی ہے۔ دیگر ٹریفک کے لیے نیا پل بنا دیا گیا ہے۔ جس کی لمبائی چنیوٹ سے شروع ہو کر چناب نگر (ربوہ) تک جاتی ہے۔ چنیوٹ شہر میں اندر فرنیچر سازی کے کارخانوں کے علاوہ بے شمار لوہے میں اور کھڈیاں لگی ہوئی ہیں۔ چنیوٹ شہر کو 1862ء میں میونسپلٹی کا درجہ سوم کی حیثیت دی گئی تھی۔ آج کل یہ سات یونین کونسلوں میں تقسیم ہے اور اسے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کا درجہ حاصل ہے۔ یکم جولائی 2009ء کو اسے ضلع کا درجہ حاصل ہوا۔ اس سے قبل یہ جھنگ کی تحصیل رہا۔ یہاں طلبہ کا پوسٹ گریجویٹ اسلامیہ کالج، طالبات کا ڈگری کالج، ایجوکیشن کالج، کامرس کالج، چناب کالج، دین کالج اور متعدد سرکاری و غیر سرکاری سکول قائم ہیں۔ علاوہ ازیں فضل الہی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال، اسلامیہ ہسپتال، ریلوے اسٹیشن، دوتھانے، غلہ منڈی، سبزی منڈی، متعدد تجارتی بازار اور مارکیٹیں بھی ہیں۔ ان میں سب سے قدیم مسلم بازار ہے۔ یہاں قریب ہی شمس ٹیکسٹائل مل اور چاول چھڑنے کے متعدد کارخانے بھی قائم ہیں۔چنیوٹ کی آبادی 1972ء میں 70108، 1981ء میں 105559 اور 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 217522 نفوس پر مشتمل تھی۔ 2005ء میں اس کی آبادی 219806 نفوس پر مشتمل تھی۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 278734 نفوس پر مشتمل ہے۔علم و ادب کے حوالے سے چنیوٹ نے بڑی نامور شخصیات کو جنم دیا ہے۔ ان میں کوٹلیہ چانکیہ، نواب وزیر خان، نواب سعد اللہ خان، قاضی محمد یوسف، عبد العلیم، عزیز علی، مولانا غلام حسین جوئیہ، چرخ چنیوٹی، خضر تمیمی، مولانا جعفر قاسمی اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کے نام نمایاں ہیں۔ چانکیہ کے متعلق بعض مورخین کا کہنا ہے کہ یہ صاحبِ علم شخص چنیوٹ کے برہمن خاندان سے تھا۔ کئی کتابوں کا مصنف تھا۔ سکندرِ اعظم کے حملہ ہندوستان کے وقت ٹیکسلا میں استاد تھا۔ ہندوستان کا مشہور بادشاہ چندر گپت موریا اس کے شاگردوں میں شامل تھا۔ موریا حکومت قائم ہونے کے بعد چانکیہ اس کا وزیر مقرر ہوا۔ چانکیہ نے سیاستِ مدن پر مشہور کتاب “ارتھ شاستر” لکھی۔ چانکیہ پہلا ہندوستانی محقق و مصنف ہے جس کی کتابوں کے ترجمے عربی میں عباسی خلیفہ مامون الرشید نے کرائے تھے۔ مغل بادشاہ شاہجہان دور کے نواب وزیر خان جن کا اصل نام حکیم علیم الدین انصاری تھا چنیوٹ میں 1605ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ عربی اور فلسفہ کی تعلیم کے بعد فنِ طب میں مہارت حاصل کی اور اس وقت کے مشہور حکیم داوی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ اپنی قابلیت اور اثر و رسوخ سے مغل دربار میں پہنچے اور بالآخر پنجاب کے صوبیدار بنے۔ آپ کو علم و ادب سے لگاؤ تھا۔ ان کے طبی نسخوں اور طریقِ علاج پر مشتمل ایک کتاب فارسی میں موجود ہے۔ 1051ء میں فوت ہوئے۔ علم و فضل کے حوالے سے مغل دربار تک پہنچنے اور بادشاہ کے بعد سب سے اہم عہدے پر فائز ہونے والی شخصیت نواب سعد اللہ خان چنیوٹ کے موضع پتراکی میں پیدا ہوئے تھے۔ بے یقینی اور پریشانی میں بچپن گزارا، فقرا کی مجلس میں پہنچے اور پھر ملا عبد الحکیم سیالکوٹی جو حضرت مجدد الف ثانی کے استاد تھے، کے درس میں رسائی حاصل کی۔ ذاتی قابلیت و لیاقت کی بنا پر شاہجہان کی نظروںمیں قابلِ اعتماد ہوئے اور روزِ بڑا اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ مورخین نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ علم و فضل، سیاست و فراست میں ان جیسا کوئی شخص اس زمانہ کے ہندوستان میں اور نہ تھا۔ شاعر ہونے کے علاوہ مفسرِ قرآن اور متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ آپ کے خطوط شائع ہوئے۔ 1656ء میں وفات پائی۔ سعد اللہ خانی، فقہی مسائل پر مشتمل ‘سورۃ فاتحہ کی تفسیر’، ‘تختِ طاؤس کا تعارف نامہ’، ‘روزنامچہ شاہجہانی’ اور ‘مکتوباتِ سعد اللہ’ آپ کی تصانیف ہیں۔شاہجہان کے عہد میں چنیوٹ کے قاضی خاندان کے سربراہ قاضی محمد یوسف جو تبحر عالم اور عادل ترین قاضی تھے۔ قاضی القضاۃ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کی انہی خدمات کے صلے میں شاہجہان نے ان کو چنیوٹ میں وسیع جاگیر عطا کی۔ بعد میں اورنگ زیب عالمگیر نے بھی ان کی عزت افزائی کی۔ بلکہ فتاویٰ عالمگیری کی ترتیب کے لیے علماء کی جو مجلسِ مشاورت مرتب کی گئی تھی اس میں قاضی محمد یوسف کا نام بھی تھا۔ چنیوٹ کے علماء میں عبد العلیم اور عبد الحلیم یہ دونوں بھائی سارے شہر کے استاد تھے۔ عبد العلیم ولی اللہ تھے۔ جبکہ عبد الحلیم شریعت محمدی کے مختلف علوم لوگوں کو سبقاً پڑھاتے رہے۔ اس وقت چنیوٹ میں جس قدر اہل علم موجود ہیں وہ یا تو ان کی اولاد سے ہیں یا ان کے فیض یافتہ لوگوں کی اولاد ہیں۔ مولانا نور احمد نقشبندی جنہوں نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں انگریزوں کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا اسی خاندان سے تھے۔ آپ نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ جن میں مثنوی ‘نیاز و ناز’، ‘ساقی نامہ’، ‘توحید نامہ’، ‘عشق نامہ’، فارسی اور ‘پنج گنج’ پنجابی بہت مشہور ہیں۔ مولانا غلام حسین چنیوٹ کے جوئیہ خاندان سے تھے۔ 1898ء میں ہفت روزہ ‘الکسیر’ جاری کیا۔ موصوف نے نواب سعد اللہ خان پر کتاب تالیف کی مگر چھپ نہ سکی۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی جو تمام عمر داعیِ ختمِ نبوت رہے۔ ان کی متعدد تالیفات و رسائل عربی زبان میں شائع ہو کر عرب ممالک میں تقسیم ہوئے۔ سلسلہ شازلیہ کے خلیفہ مولانا جعفر قاسمی کا شمار بھی یہاں کے علماء و فضلاء میں ہوتا تھا۔ کئی اہم اداروں میں لیکچر دیتے رہے۔ بی بی سی سے بھی وابستہ رہے۔ عزیز علی نو مسلم تھے اور چنیوٹ کے قریبی قصبہ پنڈی بھٹیاں میں پیدا ہوئے۔ مذہبِ اسلام قبول کرنے کے بعد پہلے سرگودھا پھر چنیوٹ آ گئے اور یہاں ‘یاوِ خدا’ کے نام سے اخبار جاری کیا۔یہاں کے قدیم شعراء میں خضر تمیمی اور چرخ چنیوٹی کے نام نمایاں ہیں۔ خضر تمیمی کا اصل نام مولا بخش تھا۔ 1896ء میں پیدا ہوئے۔ وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1930ء میں روزنامہ ‘زمیندار’ کے نائب مدیر بنے۔ 1936ء میں چنیوٹ سے اپنا ماہنامہ “چناب” جاری کیا۔ مزاحیہ شاعری کی۔ ہر بڑے شاعر کی غزل و نظم کی پیروی کر لیتے تھے۔ ان کی شاعری کا مجموعہ 1956ء میں شائع ہوا تھا۔ 1973ء میں وفات پائی۔ چرخ چنیوٹی جن کا اصل نام رائے شنکر داس تھا 1919ء میں چنیوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1932ء میں شاعری کا آغاز کیا۔ خضر تمیمی کی شاگردی اختیار کی۔ درس و تدریس کے علاوہ گراموفون کمپنی سے بھی وابستہ رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد پہلے لکھنؤ اور پھر دہلی میں آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس میں ملازمت اختیار کی جہاں وہ مستقل طور پر رہائش پذیر ہو گئے۔ ان کو غزل اور نظم دونوں پر عبور حاصل تھا۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام “آہیں” 1941ء میں چنیوٹ سے شائع ہوا۔ ‘حسنِ سخن’، ‘حسنِ نظر’، ‘حسنِ ادب’ اور ‘جلوہِ انجم’ مجموعے 1956ء میں دہلی سے شائع ہوئے۔ 1968ء میں فوت ہوئے۔ یہاں کے ایک اور ادیب نذیر احمد مجیدی تھے جو 1905ء میں پیدا ہوئے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ ہندوستان کے کئی شہروں میں قیام پذیر رہے۔ جاپان بھی گئے۔ 1937ء میں لاہور سے کیپٹن ملک ممتاز سے مل کر “روزنامہ پاسبان” جاری کیا۔ ایک سال بعد واپس چنیوٹ آ گئے اور یہاں ڈاکٹر عزیز علی کے ہفت روزہ “یاوِ خدا” سے وابستہ ہو گئے۔ 1993ء میں وفات پائی۔ آپ کے فرزند پروفیسر خالد شبیر بھی ایک ادیب اور شاعر کی حیثیت سے شناخت رکھتے ہیں۔ ‘خواب خواب روشنی’، ‘تاریخِ محاسبہ قادیانیت’، ‘شاہ جی’، ‘اسلام اور اقتدارِ اعلیٰ’، ‘اقبال اور قادیانیت’ اور ‘ہمارا پاکستان’ آپ کی تصانیف ہیں۔ یہاں سے نسبت رکھنے والے صحافی اور شاعر اختیار حسین اختر چنیوٹی 1922ء میں راہوالی ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ روزنامہ مشرق اور امروز میں کالم لکھتے تھے۔ 1935ء میں چنیوٹ آ گئے۔ بیت الحزن کے نام سے کتاب لکھی جوان کی وفات کے بعد صفدر علی ہاشمی نے شائع کروائی۔ اسی طرح حافظ خدا بخش صغیر جنہیں چنیوٹ کا پہلا صحافی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ انہوں نے یہاں سے پہلا ہفت روزہ “الکسیر” 1898ء میں شائع کیا۔ 1932ء میں ان کا انتقال ہوا۔ شاعر، مصور، ادیب اور فنِ خطاطی کے ماہر آغا عبد الواسع ثاقب سلیمانی 1914ء میں چنیوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ یادِ خدا میں بھی آپ کی نظمیں اور غزلیں چھپتی رہیں۔ آپ نے انگریزی زبان کی نظموں کا بھی اردو ترجمہ کیا۔ نامور پنجابی شاعر عابد تمیمی 1955ء میں چناب نگر کے نزدیک واقع گاؤں کھیواں میں پیدا ہوئے۔ تعلیم چنیوٹ سے حاصل کی اور مستقل چنیوٹ میں رہائش اختیار کر لی۔ اپنی منفرد اور خوبصورت شاعری کی وجہ سے ملک بھر میں نام پیدا کیا اور بزمِ عابد تمیمی کے نام سے تنظیم قائم کی۔ 2006ء میں انتقال کیا۔ بزمِ عابد نے آپ کی وفات کے بعد آپ کا کلام اکٹھا کر کے “پلکاں ہیٹھ تریل” کے نام سے 2009ء میں کتاب چھپوائی۔ چنیوٹ کے دیگر شعراء میں عادل یزدانی، بشیر شاد اور شفقت رسول مرزا کے نام بھی نمایاں ہیں۔ عادل یزدانی چناب ادبی فورم چنیوٹ کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ پسِ حرف اور سرِ عرشِ دل ان کے شعری مجموعے ہیں۔ شفقت رسول مرزا آج کل اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور میں اردو کے استاد ہیں۔ ان کا پنجابی شعری مجموعہ “پیراں وچ سنگل” جبکہ اردو شعری مجموعہ “فنا کے باب کھلنے تک” شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے پنجابی مجموعہ کو ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ پروفیسر خالد شبیر احمد اور اور شکیل جاذب کا شمار بھی چنیوٹ کے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ خالد شبیر احمد کے شعری مجموعے کے علاوہ نثری کتب بھی شائع ہو چکی ہیں۔ شکیل جاذب کے شعری مجموعے “جب سانس میں گرہیں پڑتی ہیں” اور “ہر نفس ادھورا ہے” شائع ہوئے۔ محمد طاہر عظیمی کا شمار بھی یہاں کے لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ کامرس کالج چنیوٹ میں استاد ہیں۔ مادرِ ملت کونسز، حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماہرِ معاشیات ان کی کتب شائع ہو چکی ہیں جبکہ سیرت پر دو کتب زیرِ طبع ہیں۔ چنیوٹ کے دیگر شعراء میں عارف خوجہ کے شعری مجموعہ “درِ نجف”، “ہم محبت کی یادگار ہوئے”، “جھیل میں مہتاب دیکھتا ہوں”، “چنار کے پھول”، “عشق اولٹڑا”، “پرم پیالہ”، شاعرہ عظمتِ فردوس، “آسودہ” کا شعر مجموعہ “خواب خوشبو آئینے”، افضال نوید کا “دروازے تھے کچھ اور بھی” اور سمندر بات کرتا ہے۔ قمر چنیوٹی کے سُرخی اور اجیرِ رسالت شائع ہوئے۔ ارشد گوہر اور سلیم اختر ڈھیرا بھی یہاں کے شعراء ہیں۔ سلیم اختر ڈھیرا گورنمنٹ اسلامیہ کالج چنیوٹ میں انگریزی کے استاد ہیں۔ انہوں نے اطالوی کہانیوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ معروف مترجم، سفرنامہ نگار اور شاعر عمران الحق چوہان کا تعلق بھی چنیوٹ سے ہے۔ شعبے کے اعتبار سے قانون دان ہیں۔ کئی انگریزی کتب کے اردو تراجم کیے۔ آپ کے دو سفرنامے “بستی بستی پربت پربت” اور “ہنزہ کے رات دن” بھی شائع ہو چکے ہیں۔ روزنامہ پاکستان میں “حدیثِ دل” کے عنوان سے کالم نگاری بھی کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *