احمد پور سیال

نـگـر نـگـر پنجـاب

ضلع جھنگ کا قصبہ اور تحصیل، جھنگ سے 90 کلومیٹر جانب جنوب دریائے چناب کے مغربی کنارے پر آباد ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ رجب سیال اس قصبہ کا بانی ہےـ اکبری عہد میں موصوف نے حاکمِ جھنگ غازی خان سے یہ علاقہ بطور جاگیر پایا اور یہاں اپنے بڑے فرزند کے نام پر 1572ء میں قصبہ آباد کیاـ ڈسٹرکٹ گزٹیئر جھنگ 83-1883ء کے مطابق یہ قصبہ تقریباً سو تین سو سال قبل نصرت سیال نے آباد کیا تھا اور اپنے پوتے کی نسبت سے اس کا نام احمد پور رکھا 52۔ معرضِ وجود میں آنے کے بعد ابتدائی برسوں میں احمد پور سیال حکمرانِ جھنگ کے زیرِ نگین رہا مگر اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں ان کے ایماء پر ملتان کی راجدھانی کا حصہ بنا دیا گیا اور بعد میں دو سو برس تک ملتان کا ہی جزوِ بنارہاـ قصبہ کے نواح میں جس قلعہ کے آثار پائے جاتے ہیں وہ بھی عہدِ عالمگیری کی یاد دلاتے ہیںـ سکھوں سے قبل یہاں بھنگی سردار حکمران رہے جن کو رنجیت سنگھ نے شکست دیـ جب انگریزوں نے جھنگ اور ملتان پر قبضہ کر لیا تو 1860ء میں یہ قصبہ پھر جھنگ کی حدود میں شامل کر لیا گیاـ اس وقت سے آج تک اس ضلع میں شامل ہےـ 1862ء میں اسے سب تحصیل کا درجہ ملا اور درجہ سوم کی میونسپلٹی قائم ہوئیـ بعد میں یہ ختم کر دی گئی اور 29 فروری 1924ء کو اسے سمال ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دیا گیاـ 1881ء میں اس قصبہ کی آبادی 3236 نفوس پر مشتمل تھی جن میں 1433 ہندو، 1707 مسلمان اور 29 سکھ شامل تھےـ اس زمانے میں یہاں کل 432 مکانات تھےـ 1931ء میں احمد پور سیال کی آبادی 6238 نفوس پر مشتمل تھیـ قیامِ پاکستان سے قبل یہاں کے ہندو بہت دولت مند تھے اور یہاں کی تجارت انہی کے قبضہ میں تھیـ کھدر، کھیس، صابن، کھجور کے خشک پتوں اور سرکنڈوں سے تیار کردہ چیزیں سندھ، بمبئی، دہلی اور امرتسر بھیجی جاتی تھیںـ چمڑہ اور لکڑی کی مصنوعات کے لیے مشہور منڈی تھی 53۔ مسلمان کاشتکار اکثر مفلوک الحال تھےـ قیامِ پاکستان سے قبل تک یہاں تین مندر، دو دھرم شالائیں، ایک گو شالہ، ایک یتیم خانہ، آٹھ مساجد، ایک جامع مسجد اور ایک عید گاہ موجود تھیـ 1947ء میں یہاں کے ہندو اور سکھ نقل مکانی کر کے بھارت چلے گئے اور ان کی جگہ مشرقی پنجاب کے علاقوں سے مسلمان مہاجرین آ کر آباد ہوئےـ 1919ء کی ایک رپورٹ کے مطابق یہاں صرف ایک ڈسپنسری اور ڈاکخانہ تھےـ اب یہاں تحصیل سطح کے دفاتر، طلباء و طالبات کے ہائر سیکنڈری سکول، ہسپتال، تھانہ، بازار اور متعدد بنکوں کی شاخیں موجود ہیںـ یہاں طلباء کا ہائی سکول 1850ء میں پرائمری کے طور پر قائم ہوا تھاـ 1878ء میں مڈل اور 1938ء میں ہائی ہواـ طالبات کا سکول 1970ء میں ہائی تھا 1998ء میں ہائر سیکنڈری کا درجہ ملا 54۔احمد پور سیال کی مشہور دستکاریوں میں لکڑی کے رنگین پیڑے، کھیس، کھدر اور چمڑے کی اشیاء شامل ہیںـ گندم، گنا، چاول اور کپاس علاقے کی اہم فصلیں ہیںـ صحابیِ رسول حضرت پیر عبدالرحمٰن کا مزار یہاں سے سات کلومیٹر دُور واقع بستی پیر عبدالرحمٰن میں واقع ہےـ جبکہ اتنے ہی فاصلے پر مشہور صوفی بزرگ حضرت نورنگ جہانیاں بخاری کا مزار بھی ہےـ حضرت جہانیاں بخاری آٹھویں صدی میں سندھ کی طرف سے اس علاقے میں آئے تھےـ اپنی نو کرامتوں کی وجہ سے “نورنگ” کے نام سے مشہور ہیںـ ہر سال ان کا عرس میلہ بڑی دھوم دھام سے ہوتا ہےـ علم و ادب کے اعتبار سے سید جعفر طاہر، مولوی خیر الحسن نجفی، مولوی عاشق حسین نقوی، پنڈت کاشی رام، کبیر انور جعفری اور صفدر سلیم کے نام نمایاں ہیںـ عصرِ حاضر کے قادر الکلام شاعر سید جعفر طاہر 1910ء میں احمد پور سیال میں پیدا ہوئےـ فوج میں ملازمت کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہےـ غزل، نظم اور گیت کے شاعر ہیںـ ان کا مجموعۂ کلام “ہفت کشور” کے نام سے شائع ہوا 55۔ مشہور شیعہ عالمِ دین مولوی ضمیر الحسن نجفی کا تعلق بھی اسی قصبے سے تھاـ انہوں نے ایک مذہبی کتاب “معالم السنہ” بھی لکھیـ عربی کالج جامعہ العزیز احمد پور سیال کے سابق پرنسپل مولانا عاشق حسین نقوی بھی علمی شہرت رکھتے تھےـ قیامِ پاکستان سے قبل احمد پور سیال کے باسی پنڈت کاشی رام پردھنی ہندی کے شاعر تھےـ قیامِ پاکستان کے بعد ہندوستان چلے گئےـ آپ نے ہندی الفاظ اور محاوروں پر ایک کتاب “دیدانت” کے نام سے لکھی جو شائع ہوئیـ ان کے ساتھیوں میں کھیم چند پریم اور چرن داس چرن بھی اپنے دور کے مشہور شاعر تھےـ کبیر انور جعفری کا شمار بھی قصبہ احمد پور سیال کے قدیم شاعروں میں ہوتا ہےـ ان کی اہم کتابوں میں ارمغانِ ایران، دربارِ ہاہو، لبِ سرخ شامل ہیںـ دیوانِ حضرت علیؓ کا اردو منظوم ترجمہ بھی کیاـ ان کے صاحبزادے ظفر احمد پوری بھی شاعر ہیںـ یہاں کے صفدر سلیم بھی جدید اور فکری شاعری میں منفرد مقام رکھتے ہیںـ پیشِ نظر، خواب تبدیل کریں اور مجید امجد ایک مطالعہ ان کی تصانیف ہیں 56۔ اردو کے ترقی پسند شاعر اور ادیب خاور رضوی کا تعلق بھی اسی قصبے سے تھاـ آپ کا اصل نام سید سبطِ حسن ہےـ آپ یکم جون 1938ء میں پیدا ہوئے اور 15 نومبر 1981ء کو وفات پائیـ مولوی محمد اسماعیل میرٹھی ___ ایک مطالعہ آپ کی تصنیف ہےـ فکری ادب اور عملی سیاست میں بھی حصہ لیاـ ضیاء دور میں زیرِ عتاب رہےـ اردو اور فارسی زبانوں میں شاعری کیـ یہاں قاضی احمد شہید، میاں حسو اور بابا یقین علی نامی بزرگوں کے مزارات بھی ہیں قاضی احمد شہید کے متعلق روایت ہے کہ ان کے والدِ گرامی سلطان محمود کی فوج میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھےـ فتوحات کے بعد سلطان محمود نے ان کو جاگیر عطا کی تھیـ آپ کفار کے ساتھ لڑتے لڑتے شہید ہوئے تھےـ میاں حسو کا اصل نام حسن تھاـ غوث بہاؤ الحق زکریا ملتانی کے خانوادے سے سلسلہ سہروردیہ میں بیعت تھےـ ان کا مزار احمد پور سیال پختہ سڑک کے موڑ سے آگے تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر پر واقع ہےـ بابا یقین علی کا مزار احمد پور سیال کے مشہور کڑی والے امام بارگاہ کے قریب ہےـ کبھی ان کے مزار پر بہت بڑا میلہ لگتا تھا لیکن مہر ذوالفقار علی سیال رئیس گڑھ مہاراجہ کی وفات کے بعد کسی نے میلے کا اہتمام نہیں کیا 57۔یہاں مین بازار، بازارِ میانی بستی، میو بازار، میؤ چوک اور سبزی منڈی کے کاروباری مراکز جبکہ محلہ گل کرہم، محلہ جامع مسجد، محلہ بھٹیاں والا، محلہ قاضیاں، میانی بستی، فاروق آباد، نجف آباد، محلہ محمدیہ، بنفس آباد، گھاڈواں والا اور پانچ مرلہ سکیم رہائشی بستیاں ہیں یہاں ہر قسم کے فرنیچر اور کھیس، چادریں تیار کی جاتی ہیںـ کھانے پینے کی اشیاء میں زوار خادم حسین، صوفی نور محمد کی تیار کردہ جلیبیاں، بالوشاہی اور توشہ قسم کی مٹھائیاں جبکہ فضل کے پکوڑے بہت مشہور ہیں 58۔ احمد پور سیال کی آبادی 1981ء میں 13131 اور 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 21253 نفوس پر مشتمل تھیـ اب اس کی آبادی 28 ہزار کے لگ بھگ ہےـ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 31216 نفوس پر مشتمل ہےـ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *